Read in English  
       
Digital Hub

حیدرآباد ۔ عالمی کیمیکل کمپنی نے تلنگانہ حکومت کے ساتھ ایک اہم مفاہمتی خط پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شہر میں ایک عالمی ڈیجیٹل مرکز اور گلوبل سروس ہب قائم کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ شہر کی عالمی حیثیت کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔ مزید برآں، اس پیش رفت کو ریاست کی معاشی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو اس معاہدے میں تلنگانہ لائف سائنسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سرویش سنگھ اور کمپنی کے گلوبل بزنس سروسز کے صدر ٹوبیاس ڈراٹ شامل تھے، جبکہ وزیر ددّیلا سریدھر بابو بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تاہم، اس شراکت داری کا مقصد صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ طویل مدتی ترقیاتی ڈھانچے کی تشکیل بھی ہے۔ اسی لیے حکومت اس اقدام کو ایک اسٹریٹجک قدم تصور کر رہی ہے۔

شہر میں قائم ہونے والا ڈیجیٹل مرکز 2026 کی دوسری سہ ماہی میں کام شروع کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ منصوبہ عالمی سطح پر کمپنی کی توسیعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مزید یہ کہ اس اقدام سے حیدرآباد میں جدید ٹیکنالوجی اور خدمات کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے۔

ترقی کا نیا مرحلہ | Digital Hub

وزیر سریدھر بابو کے مطابق حیدرآباد اب گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز کے لیے ایک نمایاں مرکز بن چکا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ 1 سال میں شہر میں 75 سے زائد نئے مراکز کا اضافہ ہوا ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں، حکومت کا ہدف ہے کہ 100 سے زیادہ نئے مراکز کو راغب کیا جائے اور اسی سال 1 لاکھ سے زائد ملازمتیں پیدا کی جائیں۔

اسی دوران انہوں نے کہا کہ شہر اب صرف انکیوبیشن مرکز نہیں بلکہ ایک مکمل اختراعی اور انجینئرنگ حب میں تبدیل ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ نئی پالیسیز اور اقدامات اس ترقی کے اگلے مرحلے کو تشکیل دیں گے۔ لہٰذا، یہ منصوبہ ریاستی وژن کے عین مطابق ہے۔

عالمی آپریشنز اور وسعت | Digital Hub

کمپنی اس وقت 200 سے زیادہ ممالک میں کام کر رہی ہے اور اس کے پاس دنیا بھر میں 234 مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں۔ اس کے علاوہ، ادارہ 1,08,000 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور اس کی سالانہ آمدنی تقریباً 60 ارب ڈالر ہے۔ چنانچہ، حیدرآباد کا انتخاب ایک وسیع عالمی جائزے کے بعد کیا گیا۔

مزید برآں، یہ دونوں مراکز کمپنی کی گلوبل بزنس سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے تحت کام کریں گے اور فنانس، انسانی وسائل، سپلائی چین، ریگولیٹری خدمات اور اندرونی مشاورت جیسے شعبوں کو سپورٹ فراہم کریں گے۔ تاہم، بھرتیوں کا عمل مرحلہ وار ہوگا تاکہ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

نتیجتاً، مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد یہ مراکز 3,000 ماہر پیشہ ور افراد کو ملازمت فراہم کریں گے۔ اس طرح، یہ منصوبہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ حیدرآباد کو ایک عالمی کاروباری مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے گا۔

آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سرمایہ کاری شہر کی معیشت، ٹیکنالوجی اور عالمی شناخت کو ایک نئی سمت دے گی۔ لہٰذا، آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہوں گے۔