Read in English  
       
Telangana Cabinet Decisions

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کابینہ نے پیر کے روز بجلی کی خریداری اور بھدرادری و یادادری تھرمل پاور منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے سی بی آئی تحقیقات کی منظوری دے دی۔ تاہم یہ فیصلہ ریاستی سطح پر ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں اس اقدام سے شفافیت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

وزراء پونگولیٹی سرینواس ریڈی، پونم پربھاکر، ادلوری لکشمن کمار اور واکیٹی سری ہری نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر تلنگانہ سیکریٹریٹ میں اجلاس کے بعد کابینہ کے فیصلوں کا اعلان کیا۔ اسی دوران انہوں نے مختلف پالیسی اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کیں۔

ریاستی حکومت نے 14 مارچ 2024 کو کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔ اس کمیشن نے بجلی خریداری اور تھرمل پاور منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیں۔ ابتدا میں ریٹائرڈ جسٹس ایل نرسمہا ریڈی اس کمیشن کے سربراہ تھے۔

تاہم جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد انہوں نے خود کو اس جانچ سے الگ کر لیا۔ بعد ازاں حکومت نے جسٹس مدن بی لوکور کو کمیشن کی قیادت سونپی۔ وزراء کے مطابق کمیشن نے اکتوبر 2024 میں 114 صفحات پر مشتمل رپورٹ حکومت کو پیش کی۔

اس کے بعد 4 جنوری 2025 کو کابینہ نے ایڈوکیٹ جنرل کی رائے حاصل کی۔ لہٰذا سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد کابینہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا فیصلہ کیا کیونکہ اس میں بین ریاستی پہلو اور مرکزی ادارے شامل ہیں۔

اہم پالیسی فیصلے اور اصلاحات | Telangana Cabinet Decisions

کابینہ نے تلنگانہ میں زمین کی مارکیٹ ویلیو کو سائنسی بنیادوں پر متوازن بنانے کا بھی فیصلہ کیا۔ مزید برآں رجسٹریشن محکمہ ان علاقوں میں نئی قیمتیں مقرر کرے گا جہاں سرکاری اور مارکیٹ ریٹ میں بڑا فرق ہے۔ یہ نئی قیمتیں اسی ماہ کے آخری ہفتے سے نافذ ہوں گی۔

اسی دوران ہلٹ پالیسی کے تحت درخواست دہندگان کو رعایت دینے کی منظوری دی گئی۔ ایسے افراد جو زمین کی قیمتوں میں تبدیلی سے پہلے درخواست دے چکے ہیں وہ ابتدا میں 10 فیصد رقم ادا کریں گے اور باقی رقم 90 دن کے اندر موجودہ شرح پر جمع کرا سکیں گے۔

وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ضلع انچارج وزراء کو حالیہ بے موسم بارشوں سے ہونے والے فصلوں کے نقصانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ مزید یہ کہ متاثرہ کسانوں کے لیے فوری امدادی اقدامات شروع کرنے پر زور دیا گیا۔

شمسی توانائی، ہنر مندی اور ترقیاتی منصوبے | Telangana Cabinet Decisions

کابینہ نے نلگنڈہ-رنگا ریڈی دودھ پیدا کرنے والے کوآپریٹو یونین کی ذمہ داری نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کو سونپنے کی منظوری دی۔ یہ ادارہ دودھ کی پروسیسنگ، انتظام اور مارکیٹنگ کے امور سنبھالے گا۔

مزید یہ کہ 9 اضلاع میں 33/11 کے وی سب اسٹیشنز پر شمسی توانائی کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ابتدائی مرحلے میں 18 مقامات پر 19 میگاواٹ کے منصوبے قائم کیے جائیں گے جن پر 66.50 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

کابینہ نے جی ایچ ایم سی، سائبرآباد اور ملکاجگری میونسپل کارپوریشنز کے تحت سرکاری دفاتر کے بقایا پراپرٹی ٹیکس کے لیے ون ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم کی بھی منظوری دی۔ حکام کے مطابق 5864 کروڑ روپے کے بقایا جات میں سے 1686 کروڑ روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔

اسی کے ساتھ کھمم ضلع میں کامے پلی کے قریب بگگا واگو سے لیفٹ فلڈ فلو کینال کی تعمیر کی منظوری دی گئی تاکہ علاقائی آبپاشی ٹینکس کو پانی فراہم کیا جا سکے۔ مزید برآں تمام آئی ٹی آئیز، ایڈوانسڈ ٹریننگ سینٹرز، پولی ٹیکنکس اور ٹی سیٹ کو ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

کابینہ نے رنگا ریڈی ضلع کے موئن آباد منڈل کے عزیز نگر میں 42 ایکڑ اراضی ایک جدید سبزی منڈی کی تعمیر کے لیے مختص کرنے کی بھی منظوری دی۔ لہٰذا یہ اقدامات ریاستی ترقی کے مختلف شعبوں میں نئی رفتار پیدا کریں گے۔

آخر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کابینہ کے یہ فیصلے نہ صرف شفافیت بلکہ ترقیاتی منصوبوں کے فروغ کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے۔