Read in English  
       
Digital Census Drive

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا نے پیر کے روز خود اندراج کے ذریعے مردم شماری کا ڈیٹا جمع کر کے ایک عملی مثال قائم کی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ درست معلومات فراہم کریں تاکہ فلاحی اسکیموں کی مؤثر فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید برآں اس اقدام کو ڈیجیٹل نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر میں، ضلع کھمم کے پرجا بھون کیمپ آفس میں اس عمل کا انعقاد کیا گیا جہاں نائب وزیر اعلیٰ نے Census 2027 کے تحت اپنے کوائف سرکاری پورٹل پر درج کیے۔ اس موقع پر انہوں نے آن لائن طریقہ کار کا عملی مظاہرہ بھی کیا، جس سے شہریوں کو اس جدید نظام کی افادیت سمجھنے میں مدد ملی۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کی شرکت اس عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے تلنگانہ بھر کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس ڈیجیٹل نظام کو اپنائیں اور اپنی معلومات بروقت جمع کرائیں۔ مزید یہ کہ ان کے مطابق یہ طریقہ کار نہ صرف عمل کو آسان بنائے گا بلکہ رفتار میں بھی اضافہ کرے گا، جس سے مجموعی طور پر مردم شماری کا عمل زیادہ مؤثر ہو جائے گا۔

فلاحی منصوبہ بندی میں ڈیٹا کی اہمیت | Digital Census Drive

بھٹی وکرمارکا کے مطابق آن لائن طریقہ کار ڈیٹا جمع کرنے کے عمل کو منظم بنائے گا اور اس کی درستگی میں بھی اضافہ کرے گا۔ لہٰذا درست ریکارڈ حکومت کو مستحق افراد کی نشاندہی میں مدد دے گا، جس کے نتیجے میں فلاحی اسکیمیں صحیح لوگوں تک پہنچ سکیں گی۔ مزید برآں یہ نظام وسائل کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہر گھرانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معلومات درست طریقے سے فراہم کرے۔ تاہم اگر معلومات میں غلطی ہو تو اس سے فلاحی منصوبوں کی تقسیم متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے ذمہ داری کے ساتھ اس عمل میں حصہ لینا ضروری ہے۔

انتظامی نگرانی اور عملدرآمد | Digital Census Drive

اس پروگرام میں ضلع کلکٹر ٹی ایس دیواکر بھی موجود تھے جبکہ چیف پلاننگ آفیسر سرینواس اور ٹیکنیکل اسسٹنٹ ہماورشا نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر حکام نے پورے عمل کی نگرانی کی تاکہ نظام میں شفافیت اور درستگی برقرار رکھی جا سکے۔

اسی دوران نائب وزیر اعلیٰ نے کیمپ آفس میں خود اندراج کا عمل مکمل کیا، جس سے یہ پیغام ملا کہ حکومت خود بھی اس نظام پر عمل کر رہی ہے۔ نتیجتاً اس اقدام کو عوام کے لیے ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس پیش رفت نے نہ صرف ڈیجیٹل مردم شماری کے عمل کو تقویت دی بلکہ فلاحی اسکیموں کی مؤثر فراہمی کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کی۔ لہٰذا عوامی شمولیت اس پورے عمل کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔