Read in English  
       
Power Expansion

حیدرآباد ۔ مرکزی وزیر برائے کوئلہ و معدنیات جی کشن ریڈی نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو خط لکھ کر این ٹی پی سی راماگنڈم فیز-2 منصوبے پر تیزی سے پیش رفت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جس کے پیش نظر بجلی پیداوار میں اضافہ ضروری ہو گیا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی تکمیل ریاستی توانائی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مرکزی وزیر نے یاد دلایا کہ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 800 میگاواٹ کے 2 یونٹس شامل تھے۔ یہ دونوں یونٹس مجموعی طور پر 1,600 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ مزید برآں وزیر اعظم نریندر مودی نے 2023 میں اس منصوبے کو قوم کے نام وقف کیا تھا۔

دوسرے مرحلے میں بڑی توسیع | Power Expansion

این ٹی پی سی کے مطابق منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 800 میگاواٹ کے مزید 3 یونٹس قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح اس توسیع کے بعد مجموعی طور پر 2,400 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ اسی دوران پہلے مرحلے کی طرح اس مرحلے میں بھی تقریباً 85 فیصد بجلی تلنگانہ کو فراہم کی جائے گی۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ 3 مارچ 2026 کو تلنگانہ میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 18,139 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم آنے والے برسوں میں بجلی کی ضرورت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بجلی نظام کو مستحکم بنانے کی ضرورت | Power Expansion

جی کشن ریڈی کے مطابق اضافی تھرمل پاور پیداوار ریاستی بجلی نظام کو مستحکم بنانے میں مدد دے گی۔ اسی لیے انہوں نے اس منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ این ٹی پی سی جدید الٹرا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے جو کم لاگت اور زیادہ مؤثر طریقے سے بجلی پیدا کرتی ہے۔

مرکزی وزیر نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس منصوبے کی تکمیل میں تعاون کرے۔ اس کے علاوہ انہوں نے این ٹی پی سی کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کرنے کی بھی درخواست کی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت این ٹی پی سی کو 800 میگاواٹ کے 5 یونٹس کیلئے کوئلے کی فراہمی کے انتظامات کرنے کی اجازت دے۔ اس طرح منصوبے کی بروقت تکمیل اور بجلی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔