Read in English  
       
Telangana Cabinet Decisions

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے جن میں آر ٹی سی ہڑتال، کالیشورم معاملہ، ملازمین کے واجبات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منظوری شامل ہے۔ یہ اجلاس وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا جہاں متعدد پالیسی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

پس منظر میں کابینہ نے تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ملازمین سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ تاہم حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ اسی دوران نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرامارکا کی نگرانی میں ایک افسران کی کمیٹی پہلے ہی مشاورت شروع کر چکی ہے۔

کالیشورم معاملے پر کابینہ نے جسٹس پی سی گھوش کمیشن سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا۔ مزید برآں عدالت نے کمیشن کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا مگر کچھ طریقہ کار کی خامیوں کی نشاندہی بھی کی۔ لہٰذا حکومت نے مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی انکوائری کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزرا اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کا ایک حصہ بقایہ جات کے لیے!| Telangana Cabinet Decisions

کابینہ نے ملازمین کے ₹6200 کروڑ اور ریٹائرڈ افراد کے ₹8000 کروڑ واجبات پر تشویش کا اظہار کیا۔ مزید یہ کہ حکومت نے ان ادائیگیوں کے لیے مختلف مالی ذرائع تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی لیے ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات 100 دن میں ادا کیے جائیں۔

اسی کے ساتھ وزراء نے عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنی تنخواہوں کا ایک حصہ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ علاوہ ازیں کابینہ نے پرائمری ایگریکلچرل کوآپریٹو سوسائٹیز کے لیے نامزد گورننگ باڈیز کی منظوری بھی دی جن کی مدت ختم ہو چکی تھی۔

ترقیاتی منصوبوں کی منظوری | Telangana Cabinet Decisions

کابینہ نے گچی باؤلی اسٹیڈیم کو پی پی پی ماڈل کے تحت ترقی دینے کی منظوری دی۔ اس منصوبے میں نشستوں کی گنجائش 50000 تک بڑھانے اور مختلف کھیلوں کی سہولیات شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔

مزید برآں منتھنی میں چنا کالیشورم منصوبے کے تحت زمین کے حصول کے لیے ₹166.67 کروڑ کی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے سے تقریباً 45000 ایکڑ اراضی اور 63 دیہات کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

اسی طرح منچریال ضلع میں سری پادا یلّم پلی پروجیکٹ کے قریب انٹیگریٹڈ ایکوا پارک قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ لہٰذا حکومت ماہی پروری محکمہ کو 85.10 ایکڑ آبپاشی زمین مختص کرے گی۔

آخرکار یہ فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت ایک جانب فوری مسائل کے حل پر توجہ دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔