Read in English  
       
HYDRAA Commissioner

حیدرآباد ۔ کوکٹ پلی کے ایم ایل اے مادھوورم کرشنا راؤ نے سُنّم چیروو سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں پر ہائیڈرا کمشنر رنگناتھ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمشنر کانگریس کے ایجنٹ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

منگل کو اپنے کوکٹ پلی کیمپ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس رہنما نے سوال اٹھایا کہ سُنّم چیروو میں زمین کی حصار بندی کیسے کی گئی جبکہ 5 ایکڑ اراضی کو چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ منتخب کارروائی کس بنیاد پر کی گئی۔ مزید برآں انہوں نے شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے۔

الزامات میں شدت | HYDRAA Commissioner

مادھوورم کرشنا راؤ نے دعویٰ کیا کہ ہائیڈرا کمشنر حیدرآباد کے بڑے بلڈروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر فون کرنے کے باوجود کمشنر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لہٰذا انہوں نے اسے غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا۔

ایم ایل اے کا کہنا تھا کہ بی آر ایس دور حکومت میں آئی ڈی ایل، میسمّا چیروو اور سُنّم چیروو کے اطراف ترقیاتی کام ہوئے تھے۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ اب ان علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس تک درست کام نہیں کر رہیں۔ اس صورتحال کو انہوں نے انتظامی ناکامی سے تعبیر کیا۔

شکایت اور مطالبۂ تحقیقات | HYDRAA Commissioner

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہائیڈرا کمشنر کے خلاف مرکزی ویجلنس حکام اور دیگر اعلیٰ مرکزی عہدیداروں سے شکایت کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی آر ایس ترقیاتی امور میں حکام سے تعاون جاری رکھے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غریبوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

آخر میں مادھوورم کرشنا راؤ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سُنّم چیروو سے متعلق معاملات کی جامع تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ ان کے مطابق شفاف انکوائری ہی عوامی اعتماد بحال کر سکتی ہے۔