Read in English  
       
Delimitation Criticism

حیدرآباد ۔ پداپلی کے رکن پارلیمنٹ گڈم وامسی کرشنا نے حد بندی کے مجوزہ عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے مرکز پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جنوبی ہند کی آواز کو پارلیمنٹ میں کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی شمالی ریاستوں میں اپنی نشستیں بڑھانے کے لیے سیاسی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔

نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وامسی کرشنا نے اس معاملے کو ایک بڑی سیاسی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی جنوبی ہند میں انتخابی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہے، اس لیے شمال میں اپنی طاقت بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل ووٹ بینک سیاست کی ایک واضح مثال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ہند ملک کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسے پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق جنوبی خطے کی نمائندگی تقریباً 3 فیصد ہے جبکہ مالی تعاون 5 سے 6 فیصد کے درمیان ہے۔

مزید برآں انہوں نے اس صورتحال کو واضح عدم توازن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوب سے وسائل تو حاصل کیے جاتے ہیں لیکن سیاسی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس طرح کے اقدامات وفاقی نظام کے اصولوں کے خلاف ہیں۔

علاقائی عدم توازن پر تنقید | Delimitation Criticism

وامسی کرشنا نے کہا کہ مرکز کا رویہ جنوبی ہند کو حکمرانی کے عمل سے باہر رکھنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ کسی بھی صورت اس اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔ لہٰذا اگر یہ منصوبہ آگے بڑھا تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے لیے بھی عوام نے جدوجہد کی تھی۔ اسی طرح اگر حقوق متاثر ہوئے تو دوبارہ سڑکوں پر احتجاج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف سیاست نہیں بلکہ حقوق کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے حد بندی کے عمل کو ایک سیاسی نعرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے جنوبی ہند کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام مساوی نمائندگی کے اصولوں کے منافی ہے۔

فنڈز اور نمائندگی کا سوال | Delimitation Criticism

وامسی کرشنا نے مرکز کی مالی اور نمائندگی کی پالیسی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جنوبی ہند کے وسائل کا استعمال تو جاری رکھتی ہے لیکن اس کی سیاسی اہمیت کم کر رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ جب جنوبی ہند کے ووٹ درکار نہیں تو اس کے وسائل کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر نمائندگی نہیں دی جاتی تو خطے کے وسائل وہیں خرچ کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پارلیمنٹ میں اپنی آواز مضبوطی سے اٹھائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئینی اصولوں اور مساوات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

آخر میں انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست مساوی نمائندگی کے اصولوں پر قائم رہے گی۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے مرکز کو واضح پیغام دیا کہ علاقائی توازن اور وفاقی انصاف پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔