Read in English  
       
Telangana Share Warning

حیدرآباد ۔ تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے مرکز کو حد بندی اور خواتین ریزرویشن بل کے معاملے پر سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اپنی سیاسی نمائندگی میں کسی بھی کمی کو قبول نہیں کرے گی۔ مزید یہ کہ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تلنگانہ کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تلنگانہ کی پارلیمنٹ میں نمائندگی 3.13 فیصد ہے، جو پہلے ہی بہت کم ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حد بندی کے بعد بھی یہی تناسب برقرار رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق 3.13 فیصد کو بنیادی حد تصور کیا جائے اور اس میں معمولی کمی بھی ریاست کے وقار کو متاثر کرے گی۔

مزید برآں کویتا نے کہا کہ اگرچہ نشستوں میں 50 فیصد اضافہ بظاہر مثبت قدم ہے، لیکن نشستوں کی تقسیم میں شدید عدم توازن موجود ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں تلنگانہ کو کم فائدہ ملے گا۔ اس لیے یہ عمل علاقائی عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

بنیادی نمائندگی کا تنازع | Telangana Share Warning

کویتا نے کہا کہ حد بندی کے بعد تلنگانہ کی موجودہ نمائندگی میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کم از کم 3.13 فیصد نمائندگی کی ضمانت کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق یہ ایک ناقابلِ مذاکرات سیاسی معیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تناسب میں کمی کو معمولی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ یہ ریاست کی عزت اور وفاقی توازن کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔

اسی دوران انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف نشستوں کی تعداد بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر دیگر ریاستوں کو زیادہ نشستیں ملیں تو تلنگانہ کا اثر کم ہو جائے گا۔ اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمل کا جائزہ نسبتی بنیاد پر لیا جائے۔

خواتین ریزرویشن اور او بی سی بحث | Telangana Share Warning

کویتا نے خواتین ریزرویشن بل کو حد بندی سے جوڑنے کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بل کو او بی سی ریزرویشن سے منسلک کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حقیقی سماجی انصاف اسی صورت میں ممکن ہے جب او بی سی خواتین کو 33 فیصد کوٹے میں مناسب حصہ دیا جائے۔

مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار نمائندگی کی بحث کو کمزور کرتا ہے۔ اگر او بی سی خواتین کے لیے واضح حصہ مقرر نہ کیا گیا تو یہ پالیسی ادھوری رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں معاملات کو یکجا کرنے سے سیاسی الجھن پیدا ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی ریاستوں کو حد بندی کے عمل میں سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ کیونکہ ان ریاستوں نے آبادی پر قابو اور ترقی میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ لہٰذا انہیں نقصان پہنچانا جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا۔

آخر میں کویتا نے واضح کیا کہ یہ جدوجہد صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہے گی۔ بلکہ اگر ضرورت پڑی تو عوامی احتجاج بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اپنی قومی آواز میں کسی بھی کمی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گا۔