Read in English  
       
Bribery Case Bust

حیدرآباد ۔ انسداد بدعنوانی بیورو کے حکام نے ایک میونسپل انجینئر کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب وہ 50,000 روپے کی رشوت وصول کر رہا تھا۔ اس واقعے نے سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

ملزم، نسوم سدھاکر ریڈی، جو کریم نگر ضلع کے حضور آباد میونسپلٹی میں اسسٹنٹ انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا، نے ایک شکایت کنندہ سے رشوت طلب کی تھی۔ مزید برآں، اس نے یہ رقم آر ٹی سی ڈپو چوراستہ پر وصول کی۔

حکام کے مطابق اس نے سرکاری کام میں سہولت فراہم کرنے کے بدلے یہ رقم مانگی تھی۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ میژرمنٹ بک میں اندراج کرے گا اور اس کے ساتھ ہی اسٹورم واٹر ڈرین کے کام کا حتمی بل منظور کرے گا۔

رشوت کے بدلے سرکاری کام | Bribery Case Bust

انسداد بدعنوانی بیورو نے منصوبہ بندی کے تحت ٹریپ کارروائی انجام دی اور ملزم کو رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

مزید برآں، حکام نے واضح کیا کہ رشوت لینا یا دینا قانوناً جرم ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ اسی لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات کی فوری اطلاع دیں۔

بدعنوانی کے خلاف شکایات کا نظام | Bribery Case Bust

حکام نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے رشوت طلب کی جائے تو فوراً رپورٹ کریں۔ اس کے لیے ٹول فری نمبر 1064 فراہم کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شہری واٹس ایپ، فیس بک یا سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے بھی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شکایت کنندگان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔

آخر میں انسداد بدعنوانی بیورو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی تاکہ شفاف نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔