Read in English  
       
Ambedkar Politics

حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر امبیڈکر مخالف ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کمزور طبقات سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اقدامات سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہیں، جس پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

یہ بیان انہوں نے ٹینک بنڈ پر امبیڈکر کے مجسمے پر خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد دیا، جہاں یونائیٹڈ فورم فار ایس سی اور ایس ٹی ایمپلائیز کی جانب سے رات گئے جینتی تقاریب منعقد کی گئیں۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں رہنما اور شرکاء موجود تھے، جس سے تقریب کی اہمیت واضح ہوئی۔

اپنے خطاب میں کویتا نے کہا کہ امبیڈکر صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک نظریہ ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور غریب طبقات کو انصاف فراہم کرے۔

امبیڈکر نظریہ اور حکومتی تنقید | Ambedkar Politics

کویتا نے کہا کہ امبیڈکر کا ماننا تھا کہ معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب خواتین کو بااختیار بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی کے تحت تلنگانہ ریاست کا قیام ممکن ہوا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتیں مختلف منصوبوں کے نام پر دلتوں کی اسائنڈ زمینیں حاصل کر رہی ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے ویلوگومٹلا اور پرگی جیسے علاقوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑی مقدار میں زمینیں حاصل کی گئیں، جو تشویش کا باعث ہیں۔

قبائلی مسائل اور احتجاج کی وارننگ | Ambedkar Politics

کویتا نے جنگلاتی علاقوں میں قبائلیوں کی بے دخلی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں نللاملا کے علاقوں میں چنچو قبائل کو ان کے مسکن چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں۔

اسی دوران انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ اقدامات فوری طور پر بند نہ کیے گئے تو تلنگانہ جاگروتی قبائلی برادریوں کی حمایت میں احتجاج شروع کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امبیڈکر کے نظریات سے متاثر ہو کر مزید عوامی تحریکیں شروع کی جانی چاہئیں تاکہ ریاست کے مسائل حل کیے جا سکیں۔

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ تلنگانہ میں سیاسی مباحث ایک بار پھر سماجی انصاف اور زمین کے مسائل کے گرد گھوم رہے ہیں۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی سرگرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔