Read in English  
       
Defection Verdict

حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے تحت اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار نے جمعرات کو بی آر ایس کے دو ایم ایل ایز کے خلاف دائر نااہلی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ پوچارم سرینواس ریڈی اور کالے یادیاہ کے خلاف انحراف کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔

اسپیکر کے مطابق دونوں ارکانِ اسمبلی بدستور بی آر ایس کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان کے کانگریس میں شامل ہونے سے متعلق دعووں کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد نااہلی کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

سات ایم ایل ایز کو کلین چٹ | Defection Verdict

اس فیصلے کے ساتھ ہی اسپیکر اب تک دس میں سے سات ایم ایل ایز کو نااہلی الزامات سے بری کر چکے ہیں۔ اس سے قبل اریکاپوڈی گاندھی، گڈم مہیپال ریڈی، بندلا کرشنا موہن ریڈی، پرکاش گوڑ اور تیلم وینکٹا راؤ کے حق میں بھی اسی نوعیت کے فیصلے دیے جا چکے ہیں، جن میں ان کی بی آر ایس سے وابستگی برقرار رہنے کی تصدیق کی گئی تھی۔

اسپیکر کے فیصلے نے بی آر ایس کو وقتی سیاسی راحت فراہم کی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تین معاملات زیرِ سماعت | Defection Verdict

ابھی تین ایم ایل ایز دانم ناگیندر، کڈیم سری ہری اور ڈاکٹر سنجے کے معاملات زیرِ سماعت ہیں، جن پر فیصلہ آنا باقی ہے۔ ان کیسز کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ہی ان کا حتمی انجام طے ہو سکے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن بعد سپریم کورٹ میں انحراف سے متعلق مجموعی درخواستوں پر سماعت متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے حالیہ فیصلے اور عدالتِ عظمیٰ کی آئندہ سماعت تلنگانہ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔