Read in English  
       
Massive Fire

حیدرآباد ۔ شہر کے پوش علاقے جوہلی ہلز میں واقع منگلا گوری شوروم میں اچانک شدید آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس کے باعث پورا علاقہ گھنے دھوئیں کی لپیٹ میں آ گیا۔ شعلے تیزی سے عمارت سے بلند ہوئے اور اطراف کی فضا دھندلا گئی۔ تاہم قریبی عمارتوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا کیونکہ آگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔

روڈ نمبر 36 پر واقع اس تجارتی مرکز میں صبح کے اوقات میں معمول کے مطابق سرگرمیاں شروع ہو رہی تھیں۔ اسی دوران ابتدائی اطلاعات کے مطابق دکان کے سامنے نصب مندر کے سجاوٹی سیٹ میں شارٹ سرکٹ ہوا جس سے چنگاریاں اٹھیں۔ نتیجتاً دیکھتے ہی دیکھتے آگ بھڑک اٹھی اور صورت حال سنگین ہو گئی۔

اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور آگ پر قابو پانے کی کارروائی شروع کی۔ مزید برآں ریسکیو ٹیموں نے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عمارت کے اطراف حفاظتی اقدامات کیے۔ اسی دوران پولیس نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اس سڑک پر ٹریفک روک دی تاکہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ ہو۔

مندر کے سیٹ سے شوروم تک آگ پھیلنے کی تفصیل | Massive Fire

ابتدائی رپورٹ کے مطابق جب صبح عملے نے شوروم کھولا تو سجاوٹی ڈھانچے سے چنگاریاں نکلیں جنہوں نے فوری طور پر آگ کی شکل اختیار کر لی۔ وہ سیٹ مکمل طور پر جل گیا اور اس کے بعد شعلے اندرونی حصے تک سرایت کر گئے۔ مزید یہ کہ شوروم میں موجود ملبوسات نے آگ کو مزید بھڑکا دیا جس سے عمارت دھوئیں سے بھر گئی۔

حکام کے مطابق واقعے کے وقت تمام ملازمین باہر موجود تھے۔ لہٰذا کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم مالی نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے تفصیلی جائزہ جاری ہے۔

ریسکیو کارروائی اور ابتدائی تحقیقات | Massive Fire

فائر حکام نے مربوط حکمت عملی کے تحت آگ کو محدود کرنے کی کوشش کی تاکہ شعلے دیگر حصوں تک نہ پھیل سکیں۔ اگرچہ دھوئیں کی شدت کے باعث مشکلات پیش آئیں، تاہم ٹیموں نے مسلسل کارروائی جاری رکھی۔ اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی ماہرین کو بھی طلب کیا گیا تاکہ برقی نظام کا معائنہ کیا جا سکے۔

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ آگ بھڑکنے کے وقت عمارت کے اندر کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ مزید برآں واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور تفصیلی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً حکام نے تجارتی مراکز کو حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔