Read in English  
       
Mohsina Kidwai

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے سینئر کانگریس رہنما اور سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے انہیں قومی سیاست کی ایک اہم شخصیت قرار دیا جن کی خدمات کئی دہائیوں پر محیط رہیں۔ تاہم، ان کے انتقال سے سیاسی حلقوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

پس منظر کے طور پر شبیر علی نے کہا کہ محسنہ قدوائی کا سیاسی سفر عوامی فلاح، شمولیتی طرز حکمرانی اور خواتین و اقلیتوں کے حقوق کے فروغ سے عبارت تھا۔ اس دوران انہوں نے قومی سطح پر اہم ذمہ داریاں نبھائیں، جن میں راجیو گاندھی کے دور حکومت میں کردار بھی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محسنہ قدوائی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی عوامی زندگی دیانتداری، ہمدردی اور کانگریس کے نظریات سے وابستگی کی عکاس رہی۔

قومی سیاست میں خدمات اور کردار | Mohsina Kidwai

مزید تفصیلات کے مطابق شبیر علی نے ان کی خدمات کو قومی سطح پر نہایت اہم قرار دیا۔ لہٰذا ان کا کردار نہ صرف پارٹی بلکہ ملک کے لیے بھی نمایاں رہا۔ مزید برآں انہوں نے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کی، جو ان کی سیاست کا بنیادی جزو تھا۔

یہ پہلو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک اصولی شخصیت بھی تھیں۔ بلکہ، ان کی جدوجہد نے کئی طبقات کو نمائندگی فراہم کی۔

انتقال پر ردعمل اور تعزیت | Mohsina Kidwai

اسی دوران شبیر علی نے کہا کہ ان کا انتقال کانگریس پارٹی اور ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ مزید برآں انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ انہیں صبر عطا فرمائے۔

نتیجتاً سیاسی و سماجی حلقوں میں ان کی خدمات کو یاد کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان کی شخصیت اور کردار ایک مثال کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

اختتامیہ کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ محسنہ قدوائی کی وفات سے ایک ایسا باب ختم ہوا ہے جس نے طویل عرصے تک بھارتی سیاست کو متاثر کیا۔