Read in English  
       
Urban Reform

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے جمعہ کو عہدیداروں کو ہدایت دی کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے موجودہ قانون کی جگہ ایک نیا کور اربن ایکٹ تیار کیا جائے۔ یہ قانون آؤٹر رنگ روڈ کی حدود کے اندر قائم 3 میونسپل کارپوریشنز پر یکساں طور پر نافذ ہوگا اور شہری نظم و نسق کو نئے فریم ورک کے تحت منظم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون نوٹیفائیڈ کور زون میں اجازت ناموں، فیس ڈھانچے اور ترقیاتی کاموں کو منظم کرے گا۔ مزید برآں اس کا مقصد شہری انتظامیہ کو واضح قواعد اور مؤثر نگرانی کے ذریعے مضبوط بنانا ہے تاکہ ترقیاتی سرگرمیاں یکساں معیار کے مطابق ہوں۔

شہری نظام کی مضبوطی اور نگرانی | Urban Reform

وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ نئے قانون میں صفائی ستھرائی، سڑکوں کے معیار اور اسٹریٹ لائٹس کی نگرانی کو اولین ترجیح دی جائے۔ تاہم انہوں نے خوراک کی حفاظت اور فائر سیفٹی ضوابط پر سخت عمل درآمد کو بھی لازمی قرار دیا تاکہ شہری علاقوں میں حفاظتی معیار بہتر ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ روڈز اینڈ بلڈنگس ڈپارٹمنٹ اور دیگر ایجنسیوں کے زیر انتظام تمام سڑکیں بلدیاتی نظم و نسق کے محکمے کے کنٹرول میں لائی جائیں۔ دریں اثنا مجوزہ فیوچر سٹی میں سرکاری دفاتر کی تعمیر کو تیز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی تاکہ انتظامی ڈھانچہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔

بنیادی ڈھانچے کی ہم آہنگ منصوبہ بندی | Urban Reform

ریونت ریڈی نے شہری حدود میں واقع جھیلوں اور تالابوں کی ترقی اور خوبصورتی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ مجوزہ قانون کے مقاصد کے مطابق ایک مربوط انفراسٹرکچر منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ طویل مدتی شہری ترقی ممکن ہو سکے۔

جائزہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ویمولا نریندر ریڈی، چیف سیکریٹری کے راماکرشنا راؤ، پرنسپل سیکریٹری وی سیشادری اور سیکریٹری مانک راج شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ بلدیاتی نظم و نسق کے خصوصی چیف سیکریٹری جیش رنجن، ہائیڈرا کمشنر رنگناتھ، ایچ ایم ڈی اے کمشنر سرفراز احمد اور ایم آر ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر ای وی نرسمہا ریڈی بھی موجود تھے۔

حیدرآباد، سائبرآباد اور ملکاجگری کے کمشنرز کرنن، جی سریجنا اور ونئے کرشنا ریڈی نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور مجوزہ قانون کے عملی نفاذ سے متعلق نکات پیش کیے۔ نتیجتاً حکومت نے واضح کیا کہ شہری نظم و نسق میں یکسانیت، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔