Read in English  
       
Hyderabad Tragedy

حیدرآباد: سعودی بس حادثے کی معلومات سامنے آنے کے بعد شہر حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے کہا کہ یہ سانحہ حیدرآباد کے لیے انتہائی صدمہ خیز ہے کیونکہ کئی شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خبر پورے شہر میں گہرے رنج اور دکھ کا باعث بنی۔

سجنار نے وضاحت کی کہ حیدرآباد سے 54 زائرین 9 نومبر کو مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چار افراد مکہ میں ہی رک گئے جبکہ چار دیگر مدینہ کا سفر کار کے ذریعے کر گئے۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ باقی 46 افراد بس میں سوار تھے اور یہی بس المناک حادثے سے دوچار ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حادثہ مدینہ سے تقریباً 25 کلومیٹر پہلے پیش آیا۔ گروپ کے اہل خانہ کو توقع تھی کہ زائرین کا شیڈول 23 نومبر تک جاری رہے گا، مگر اس اچانک سانحے نے سب کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پورے شہر میں غم کی لہر دوڑا دی۔

محمد شعیب واحد زندہ بچ جانے والے شخص | Hyderabad Tragedy

انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں صرف ایک شخص، محمد شعیب، زندہ بچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ باقی تمام افراد کی ہلاکت نے خاندانوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس کمشنر نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کی اور کہا کہ شہر اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تمام واقعات کی تفصیلات کی تصدیق کے بعد ہی معلومات اہل خانہ تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ حکام ہر نئی اطلاع کی جانچ کے بعد اسے شیئر کر رہے ہیں تاکہ کسی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔

دو خاندانوں کا مکمل خاتمہ اور جاری رابطہ کاری | Hyderabad Tragedy

انہوں نے بتایا کہ ملے پلی کے دو خاندان اس حادثے میں مکمل طور پر جاں بحق ہو گئے۔ اہل خانہ کے ناموں کی تصدیق کردی گئی جس پر رشتہ دار غم سے نڈھال ہو گئے۔ حکام نے کہا کہ وہ بیرونِ ملک موجود اداروں سے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ مکمل تفصیلات حیدرآباد پہنچ سکیں۔

مزید یہ کہ متعلقہ محکموں نے کہا کہ ہر مصدقہ اطلاع اہل خانہ تک جلد از جلد پہنچانے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کی مکمل تصویر سامنے آنے تک رابطے کا عمل جاری رہے گا۔