Read in English  
       
Political Protest

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے وقارآباد ضلع میں کسانوں سے ملاقات کے لیے جانے والے پارٹی رہنماؤں کی نظر بندی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے پولیس کا استعمال کر رہی ہے۔

پس منظر کے طور پر کے ٹی آر نے بی آر ایس ایل پی کے ڈپٹی لیڈرز ٹی ہریش راؤ اور پی سبیتا اندرا ریڈی سمیت دیگر رہنماؤں کی حراست پر تنقید کی۔ تاہم انہوں نے اس اقدام کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔

کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ حکومت طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کو خاموش کرانا چاہتی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل جمہوری نظام کو کمزور کرتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

زمین کے حصول پر اعتراضات | Political Protest

مزید یہ کہ انہوں نے تقریباً 1200 ایکڑ زمین کے حصول کے منصوبے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کی زمینوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریتھو بھروسہ، قرض معافی اور سکس گارنٹیز جیسے اہم وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ لہٰذا انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب گزشتہ 2 سال میں بڑی صنعتیں قائم نہیں ہوئیں تو زمین کے حصول میں اتنی جلدی کیوں کی جا رہی ہے۔

سیاسی کشیدگی اور احتجاج کا تسلسل | Political Protest

اسی دوران کے ٹی آر نے کہا کہ گرفتاریاں اور مقدمات بی آر ایس کو پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے تلنگانہ تحریک کے دوران بھی اسی طرح کے حالات کا سامنا کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس بار بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

اختتامیہ طور پر انہوں نے خبردار کیا کہ دھمکیوں اور دباؤ کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔ مزید برآں انہوں نے اعادہ کیا کہ بی آر ایس کسانوں کی حمایت جاری رکھے گی اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرے گی۔