Read in English  
       
Kavitha Discharged

حیدرآباد ۔ دہلی کی عدالت نے تلنگانہ جاگرُتی کی صدر کلوا کنٹلا کویتا کو دہلی شراب پالیسی کیس میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ روز ایونیو کورٹ نے قرار دیا کہ سی بی آئی الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی اور فرد جرم میں مادی خامیاں پائی گئیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ استغاثہ قانونی طور پر قابل قبول شواہد پیش نہیں کر سکا۔

عدالت نے کویتا کے آڈیٹر بوچی بابو، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور سابق وزیر منیش سسودیا سمیت 22 دیگر ملزمین کو بھی راحت دی۔ نتیجتاً مجموعی طور پر 23 ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ خصوصی سی بی آئی جج جتیندر سنگھ نے حتمی دلائل سننے کے بعد یہ احکامات جاری کیے۔

عدالت نے اپنے مشاہدہ میں کہا کہ تفتیشی ایجنسی مقدمہ کو ٹرائل تک لے جانے کے لیے واضح شہادتی بنیاد پیش نہیں کر سکی۔ لہٰذا الزامات برقرار رکھنے کا جواز موجود نہیں تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ ٹرائل کورٹ کی سطح پر کارروائی اختتام پذیر ہو گئی۔

مقدمے کا پس منظر اور تفتیش | Kavitha Discharged

یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب دہلی حکومت نے 2021-22 کے لیے نئی ایکسائز پالیسی متعارف کرائی۔ بعد ازاں پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے۔ جولائی 2022 میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے معاملہ سی بی آئی کو بھیجنے کی سفارش کی۔

اس وقت کے دہلی چیف سکریٹری کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض لائسنس فیس میں چھوٹ سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔ سی بی آئی نے الزام لگایا کہ پالیسی کو بعض شراب تاجروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا اور مبینہ کک بیکس سیاسی شخصیات تک پہنچائی گئیں۔ ایجنسی کے مطابق ایک گروپ جسے ساؤتھ گروپ کہا گیا، تقریباً ₹100 کروڑ کی مبینہ ادائیگیوں میں ملوث تھا۔

پیش کردہ مواد فرد جرم عائد کرنے کے لیے ناکافی | Kavitha Discharged

سی بی آئی نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد روز ایونیو کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی۔ منیش سسودیا کو 26 فروری 2023 کو گرفتار کیا گیا جبکہ کویتا کو 15 مارچ 2024 اور اروند کجریوال کو 21 مارچ 2024 کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں تمام ملزمین کو ضمانت مل گئی۔

عدالت نے ریکارڈ اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ پیش کردہ مواد فرد جرم عائد کرنے کے لیے کافی نہیں۔ نتیجتاً تمام ملزمین کو ڈسچارج کر دیا گیا اور ٹرائل کورٹ میں کارروائی کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا۔