Read in English  
       
Land Policy

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر برائے آئی ٹی و صنعت سریدھر بابو نے وقارآباد میں زمین حصول سے متعلق بی آر ایس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن پر کسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان بیانات کے ذریعے سرکاری پالیسی پر شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے اسے صنعتی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔

پس منظر کے طور پر وزیر نے کہا کہ وقارآباد ایک ایسا علاقہ ہے جو ماضی میں نظر انداز رہا، مگر اب ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل ہو رہا ہے۔ دریں اثنا انہوں نے اپوزیشن کی تنقید کو سیاسی قرار دیا اور کہا کہ یہ موجودہ پالیسیوں کی درست عکاسی نہیں کرتی۔ لہٰذا انہوں نے ان بیانات کو بے بنیاد قرار دیا۔

سریدھر بابو نے زمین کی دستیابی کے حوالے سے بتایا کہ چندن ویلی اور سیتارم پور کے صنعتی پارکس میں توسیع کی گنجائش محدود ہے۔ اسی طرح بعض اراضی قانونی مسائل اور مناسب رابطہ سڑکوں کی کمی کا شکار ہیں۔ مزید برآں ان رکاوٹوں کی وجہ سے نئی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔

زمین کے حصول سے متعلق حکومتی حکمت عملی | Land Policy

انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل کی صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لینڈ بینک تیار کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ کوڈنگل اور پرگی کو توسیع کے لیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ ریڈیل سڑکوں اور ریجنل رنگ روڈ منصوبے کے ذریعے بہتر رابطہ فراہم کیا جائے گا۔ نتیجتاً ان اقدامات سے صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔

وزیر نے واضح کیا کہ تمام اقدامات 2013 کے قانون کے تحت کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ تفصیلی منصوبہ رپورٹس تیار کی جائیں گی اور ضروری منظوری حاصل کی جائے گی۔ تاہم اس عمل میں قانونی تحفظات کو یقینی بنایا جائے گا۔

معاوضہ، بحالی اور کسانوں کے خدشات | Land Policy

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے معاوضے سے متعلق دعوے درست نہیں ہیں۔ لہٰذا زمین مالکان کو قانون کے مطابق معاوضہ اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں رہائشی پلاٹس بھی شامل ہوں گے۔ مزید برآں متاثرہ خاندانوں کی مکمل معاونت کی جائے گی۔

آخر میں سریدھر بابو نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی مہمات سے متاثر نہ ہوں۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ صنعتی توسیع سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، نقل مکانی میں کمی آئے گی اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری ہوگی۔ نتیجتاً حکومت ترقی کے ساتھ عوامی مفادات کا بھی تحفظ کرے گی۔