Read in English  
       
Vehicle Cess

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے سڑکوں کی حفاظت کو مستحکم بنانے کے لیے نئی گاڑیوں پر روڈ سیفٹی سیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس سلسلے میں باضابطہ احکامات جاری کر دیے ہیں۔ تاہم یہ نیا محصول 1 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور اسی تاریخ کے بعد خریدی جانے والی گاڑیوں پر لاگو ہوگا۔

حکام کے مطابق یہ سیس کاروں، مسافر آٹو رکشاؤں اور دیگر نان ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر لاگو کیا جائے گا۔ مزید برآں دو پہیہ گاڑیوں کے لیے 2000 روپے، لائٹ موٹر وہیکل کے لیے 5000 روپے اور دیگر زمروں کے لیے 10000 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ریاست میں ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

رجسٹریشن مرحلے پر وصولی کا طریقہ کار | Vehicle Cess

محکمہ ٹرانسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ رقم گاڑی کی رجسٹریشن کے وقت وصول کی جائے گی۔ لہٰذا مالکان کو رجسٹریشن مکمل کرنے سے قبل سیس ادا کرنا لازمی ہوگا۔ حکام نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ادائیگی کے بغیر رجسٹریشن کی کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔

کاریں لائٹ موٹر وہیکل کے زمرے میں شمار ہوں گی جبکہ 4 سے 7 نشستوں والے مسافر آٹو رکشہ اعلیٰ سلیب میں آئیں گے۔ اسی دوران متعلقہ دفاتر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نئے نظام پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

سالانہ آمدنی میں اضافہ اور حکومتی ہدف | Vehicle Cess

سرکاری اندازوں کے مطابق اس نئے محصول سے ریاستی حکومت کو سالانہ تقریباً 270 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی۔ مزید یہ کہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم سڑکوں کی بہتری اور حفاظتی اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔ تاہم بعض حلقوں میں اس فیصلے پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ آیا اس سے گاڑی مالکان پر اضافی مالی بوجھ بڑھے گا یا نہیں۔

نتیجتاً حکومت نے واضح کیا ہے کہ سڑک حادثات کی روک تھام اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔ اسی لیے متعلقہ محکموں کو عمل درآمد کے لیے مکمل تیاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔