Read in English  
       
Skill Mobility

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے ہنر مند افراد کے لیے بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانے کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے، جہاں وزیر جی ویویک وینکٹ سوامی نے برلن میں ہندوستانی سفیر اجیت گپتے کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کیے۔ اس ملاقات کا مقصد عالمی سطح پر روزگار کے مواقع کو وسعت دینا تھا۔ مزید برآں، اس اقدام کو ریاستی معیشت کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اعلیٰ سطحی وفد جرمنی میں ہندوستانی سفارت خانے میں جمعہ کے روز ملاقات کے لیے پہنچا، جہاں یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں ہنر مند افرادی قوت کی طلب پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم، اس دوران یورپ میں ہندوستانی برادری کے کردار پر بھی زور دیا گیا۔

جرمنی میں مواقع اور تربیتی ضروریات | Skill Mobility

حکام کے مطابق جرمنی میں ہندوستانی برادری کی تعداد 3.11 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے تقریباً 1.16 لاکھ افراد معیشت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے کہا کہ یہ رجحان ہنر مند پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔

دونوں فریقین نے بلیو کالر اور دیگر ہنر مند کارکنوں کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ مزید یہ کہ، روانگی سے قبل تربیت کو ضروری قرار دیا گیا تاکہ امیدوار بین الاقوامی معیار اور کام کی جگہ کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔

تربیتی ڈھانچہ اور مستقبل کی حکمت عملی | Skill Mobility

جی ویویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ تلنگانہ نے جدید تربیتی نظام قائم کیا ہے جو عالمی معیار کے مطابق ہنر کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں جدید لیبارٹریز اور اسکل سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، تلنگانہ اوورسیز مین پاور کمپنی کے ذریعے بھرتی، تربیت اور جرمن زبان کی تیاری کو منظم کیا جا رہا ہے۔

وفد نے پی ایم سیٹو پروگرام اور ماسٹر ٹرینر اقدام کی بھی وضاحت کی، جس کا مقصد ہندوستانی تربیتی نظام کو جرمن صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ لہٰذا، یہ اقدامات عالمی معیار کی افرادی قوت تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اجلاس میں اسپیشل چیف سکریٹری ایم دانا کشور سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور سفارتی نمائندے بھی شریک ہوئے۔ مزید برآں، اجیت گپتے نے تلنگانہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

آخر میں، حکام نے کہا کہ اس اشتراک سے صحت، انجینئرنگ اور دیگر تخصصی شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چنانچہ، یہ پیش رفت تلنگانہ کی عالمی سطح پر افرادی قوت کی موجودگی کو مزید مستحکم کرے گی۔