Read in English  
       
Bribery Case

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے ضلع پیداپلی میں ایک ریونیو انسپکٹر کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو نے یہ کارروائی ایک شکایت کی بنیاد پر انجام دی۔ مزید برآں اس واقعے نے سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کریم نگر یونٹ کے اے سی بی حکام نے بدھ کے روز انترگام منڈل میں ٹریپ کارروائی کی۔ تاہم ملزم سیدانکا سریمن کو تحصیلدار دفتر میں 10000 روپے رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا۔ اسی دوران حکام نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔

حکام کے مطابق افسر نے ایک شکایت کنندہ سے سرکاری کام میں سہولت فراہم کرنے کے لیے رقم طلب کی تھی۔ مزید یہ کہ اس نے بھو بھارتی ایکٹ 2025 کے تحت زمین سے متعلق فیلڈ انکوائری اور موافق رپورٹ دینے کے لیے یہ رشوت مانگی تھی۔ لہٰذا یہ معاملہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

رشوت ستانی اور اختیارات کا غلط استعمال | Bribery Case

شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی اور ملزم کو رشوت لیتے وقت گرفتار کیا۔ مزید برآں حکام نے اس کے قبضے سے نشان زدہ رقم بھی برآمد کر لی۔ اسی دوران تفتیش کاروں نے کہا کہ افسر نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے اقدامات عوام کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں اور نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ تاہم اے سی بی نے واضح کیا کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

قانونی کارروائی اور تحقیقات | Bribery Case

گرفتاری کے بعد حکام نے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ اسے کریم نگر میں خصوصی عدالت کے جج کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں سے عدالتی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔ اسی دوران کیس کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

حکام نے شکایت کنندہ کی شناخت کو محفوظ رکھا ہے تاکہ اس کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اختتامیہ کے طور پر اے سی بی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی رشوت ستانی کی اطلاع 1064 پر دیں تاکہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔