Read in English  
       
Hindi Legacy

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے گورنر شیوپرتاپ شکلا نے حیدرآباد میں موتوری ستیہ نارائنا کے مجسمے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ان کی قومی خدمات کو اجاگر کیا۔ تاہم اس موقع پر آزادی کی تحریک اور زبان کے ذریعے اتحاد کے فروغ میں ان کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ مزید یہ کہ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا جنہوں نے زبان کو قومی یکجہتی کا ذریعہ بنایا۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو موتوری ستیہ نارائنا نے زبان کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اتحاد کی علامت کے طور پر استعمال کیا۔ دریں اثنا انہوں نے مختلف خطوں کے درمیان لسانی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ لہٰذا ان کی خدمات کو قومی سطح پر ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔

گورنر نے کہا کہ اگرچہ موتوری ستیہ نارائنا کی مادری زبان تیلگو تھی، تاہم انہوں نے ہندی کو عوامی رابطے کے لیے اختیار کیا۔ اسی طرح وہ شمالی ہندوستان کا سفر کرتے رہے تاکہ ہندی کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں انہوں نے سنٹرل ہندی سنستھان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جو آج بھی ہندی تعلیم کو فروغ دے رہا ہے۔

یہ تقریب سکندرآباد کے باپو جی نگر میں واقع سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ہندی میں منعقد ہوئی۔ تاہم اس موقع پر موتوری ستیہ نارائنا کی سوانح حیات کی رونمائی بھی کی گئی۔ علاوہ ازیں ادارے کی سہ ماہی اشاعت بھی جاری کی گئی جسے شرکا نے سراہا۔

یادگار تقریب اور قومی خدمات کا اعتراف | Hindi Legacy

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرشیوپرتاپ شکلا نے کہا کہ یہ پروگرام ایک ایسے رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ مزید یہ کہ ہندی کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں اس حد تک تھیں کہ انہیں قید بھی برداشت کرنا پڑی۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

آئینی کردار اور ادارہ جاتی خدمات | Hindi Legacy

اسی طرح موتوری ستیہ نارائنا نے آئین ساز اسمبلی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ لہٰذا انہوں نے ہندوستانی زبانوں کے فروغ اور سرکاری زبان کے طور پر ہندی کے دائرہ کار کو مضبوط بنانے کی حمایت کی۔ مزید برآں انہوں نے سنٹرل ہندی ٹیچنگ بورڈ کے قیام میں بھی حصہ لیا جو آج بھی فعال ہے۔

آخر میں گورنر نے کہا کہ مجسمے کی نقاب کشائی اور اشاعتی سرگرمیاں دراصل لسانی ہم آہنگی اور ثقافتی اتحاد کے اعتراف کی علامت ہیں۔ نتیجتاً یہ تقریب نہ صرف ایک تاریخی شخصیت کو یاد کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔