Read in English  
       
Political Outreach

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں سیاسی سرگرمیاں اس وقت تیز ہو گئی ہیں جب کے ٹی راما راؤ نے کانگریس کے سینئر رہنما ٹی جیون ریڈی سے ملاقات کر کے انہیں بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ یہ دعوت پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی جانب سے دی گئی جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مزید برآں اس پیش رفت کو ریاستی سیاست میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پس منظر کے طور پر کے ٹی آر جمعرات کو پارٹی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کے ہمراہ جگتیال میں جیون ریڈی کی رہائش گاہ پہنچے۔ تاہم ملاقات کے دوران انہوں نے باضابطہ طور پر بی آر ایس میں شمولیت کی پیشکش کی۔ اسی دوران ذرائع کے مطابق جیون ریڈی نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔

کے ٹی آر کے مطابق جیون ریڈی نے کے سی آر کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا بھی اعتراف کیا۔ مزید یہ کہ وہ جلد ہی کے سی آر سے ملاقات کریں گے اور آئندہ چند دنوں میں اپنا فیصلہ ظاہر کریں گے۔ لہٰذا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

سیاسی روابط اور ممکنہ اثرات | Political Outreach

کے ٹی آر نے کہا کہ تجربہ کار رہنما کسانوں اور کمزور طبقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کے سی آر کی دوبارہ واپسی ریاست کی ترقی کی رفتار کو بحال کر سکتی ہے۔ اسی دوران انہوں نے جیون ریڈی کے 40 سالہ سیاسی تجربے کو سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی جیون ریڈی کو بی آر ایس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم انہوں نے اپنی دیرینہ وابستگی کے باعث کانگریس میں رہنے کو ترجیح دی۔ تاہم کے ٹی آر نے دونوں رہنماؤں کے درمیان 40 سال سے زائد پرانے تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔

حکومتی کارکردگی پر تنقید اور سیاسی حکمت عملی | Political Outreach

کے ٹی آر نے کانگریس حکومت کی 2.5 سالہ کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانی میں خامیوں کے باعث عوامی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے رعیتو بندھو اسکیم میں تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 27000 کروڑ روپے کے واجبات جمع ہو چکے ہیں۔ لہٰذا کسانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

اسی دوران انہوں نے قرض معافی کے وعدوں اور 2 لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کے وعدے پر بھی سوال اٹھائے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں بے روزگاری کے باعث مایوسی بڑھ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس کے اندر بھی عدم اطمینان پایا جا رہا ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے حالیہ بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عہدے کے وقار کے مطابق نہیں ہیں۔ آخر میں کے ٹی آر نے کہا کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا اور عوامی حمایت سے بی آر ایس دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔

اختتامیہ کے طور پر یہ ملاقات تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا آئندہ دنوں میں جیون ریڈی کا فیصلہ سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔