Read in English  
       
Inclusive Education

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے ضلع کھمم میں بصارت سے محروم طلبہ کے لیے ایک جدید اسکول قائم کیا گیا ہے جہاں ایک سرکاری پرائمری اسکول کو تبدیل کر کے خصوصی تعلیمی مرکز بنایا گیا۔ اس اقدام کا مقصد خصوصی طلبہ کو جدید سہولیات اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ مزید برآں اس منصوبے کو جامع تعلیم کے فروغ کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر کے طور پر یہ اسکول نظام پیٹ میں قائم کیا گیا جو حکومت کے “پرجا پالنا – پراگتی پرنالیکا (99-Day Action Plan)” کے تحت شروع کیا گیا۔ تاہم ضلع کلکٹر انودیپ دوریشیٹی نے عوامی شکایات کے بعد اس منصوبے کا جائزہ لیا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا۔ اسی دوران حکام نے اسکول کی اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی۔

حکام نے کلاس رومز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا اور بریل سسٹم پر مبنی تعلیمی آلات فراہم کیے۔ مزید یہ کہ اسکول میں دیونار اسکول فار دی بلائنڈ کے ماڈل کو اپنایا گیا تاکہ طلبہ کو منظم تعلیم فراہم کی جا سکے۔ لہٰذا اس اقدام سے تدریسی معیار میں بہتری متوقع ہے۔

سہولیات اور تعلیمی نظام کی بہتری | Inclusive Education

حکام نے گھر گھر سروے کر کے مستحق طلبہ کی نشاندہی کی اور خصوصی اساتذہ کو اسکول میں تعینات کیا۔ مزید برآں طلبہ کو بریل کتابیں، آڈیو اسباق اور دیگر معاون آلات فراہم کیے گئے۔ اسی دوران ایک جدید ٹیکنالوجی لیب اور سینسری روم بھی قائم کیا گیا جہاں طلبہ کی حسِ سماعت، لمس اور توازن کو بہتر بنایا جاتا ہے۔

اسکول میں رکاوٹ سے پاک انفراسٹرکچر، محفوظ برقی نظام اور موسیقی کے کمرے کے ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر بھی موجود ہے۔ لہٰذا طلبہ کو ہمہ جہتی ترقی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

معاون ٹیکنالوجی اور طلبہ کی خودمختاری | Inclusive Education

اساتذہ بریل سلیٹ، اباکس، جیومیٹری کٹس اور ٹیکٹائل آلات کے ذریعے مختلف مضامین کی تعلیم دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ طلبہ کو آزادانہ نقل و حرکت کے لیے خصوصی چھڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ اسی دوران بصری جائزہ لینے کے آلات بھی استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر طالب علم کی ضروریات کے مطابق تعلیم دی جا سکے۔

اس منصوبے پر 18.50 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہ زیڈ پی سی ای او دیکشا رینا نے معیار اور سہولیات کی نگرانی کی۔ اختتامیہ کے طور پر ضلع کلکٹر نے کہا کہ بصارت سے محروم طلبہ کو بھی برابر مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔ لہٰذا یہ اسکول جامع تعلیم کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔