Read in English  
       
Traffic Trial

حیدرآباد ۔ شہر کی ٹریفک پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک کے بی آر پارک کے اطراف یکطرفہ ٹریفک نظام کا تجربہ کیا جائے گا۔ یہ اقدام جاری ایچ-سی آئی ٹی آئی منصوبے کے تحت تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث کیا جا رہا ہے۔ تاہم حکام نے شہریوں کو پیشگی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

پس منظر کے طور پر حکام نے بتایا کہ بنجارہ ہلز اور جوبلی ہلز کے علاقوں میں اسٹیل فلائی اوور اور انڈر پاس کی تعمیر جاری ہے۔ مزید برآں انہی کاموں کی وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ میں عارضی تبدیلیاں ناگزیر ہو گئی ہیں۔ لہٰذا ٹرائل کے دوران گاڑیوں کی آمد و رفت کو یکطرفہ نظام کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔

شہریوں کو این ایف سی ایل سے جوبلی ہلز اور کے بی آر پارک کی جانب سفر کے لیے متبادل راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس دوران انہیں این ٹی آر بھون کے راستے سے گزر کر بساوتارکم کینسر اسپتال، اگرسین آئی لینڈ اور اومیگا اسپتال کی جانب بڑھنا ہوگا۔ اس کے بعد گاڑیاں روڈ نمبر 45، جوبلی ہلز چیک پوسٹ، کیبل برج اور آئیکیاکی طرف جا سکیں گی۔

ٹریفک کی روانی میں بہتری کے اقدامات | Traffic Trial

حکام کے مطابق یہ متبادل راستہ تعمیراتی مقام کے قریب ٹریفک دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔ مزید یہ کہ اس نظام کے ذریعے گاڑیوں کی روانی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس دوران صبر اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔

دوسری جانب یوسف گوڑہ اور سری نگر کالونی سے روڈ نمبر 36، 45، جوبلی ہلز اور مادھا پور جانے والے افراد کو بھی متبادل راستہ اپنانا ہوگا۔ انہیں اندرا نگر گڈا روڈ یعنی روڈ نمبر 5 سے ہوتے ہوئے وینکٹاگیری جنکشن تک جانا ہوگا۔ وہاں سے دائیں مڑ کر ڈائمنڈ ہاؤس کے ذریعے روڈ نمبر 10 تک رسائی حاصل کی جائے گی۔

متبادل راستے اور شہری ہدایات | Traffic Trial

اس کے بعد گاڑیاں الکازر سے گزرتے ہوئے دوبارہ دائیں مڑ کر روڈ نمبر 36 اور روڈ نمبر 45 کے ذریعے مادھا پور پہنچ سکیں گی۔ اسی دوران پولیس نے واضح کیا کہ یو ٹرن کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام ڈرائیورز کو بائیں جانب رہتے ہوئے اخراجی راستے استعمال کرنے ہوں گے۔

مزید برآں شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زمینی سطح پر موجود ٹریفک اہلکاروں کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ تاہم یہ اقدامات وقتی ہیں اور مستقبل میں بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

آخر میں حکام نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر شہریوں کو کچھ مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن یہ منصوبہ طویل مدت میں ٹریفک کے نظام کو ہموار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔