Read in English  
       
Dam Repairs

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کالیشورم منصوبے کی مرمت کے کام کو تیز کرنے اور اس کے تینوں بیراجز کی جلد بحالی کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکام کو فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ مزید برآں اس معاملے کو ریاستی سطح پر ترجیحی حیثیت دی گئی ہے۔

پس منظر کے طور پر یہ جائزہ اجلاس جوبلی ہلز میں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی بھی موجود تھے۔ تاہم اجلاس میں حکام کو نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی گئی۔ اسی دوران ایک جامع ایکشن پلان تیار کرنے اور مسلسل نگرانی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی ہم آہنگی کو بہتر بنائیں اور ہر مرحلے پر مستعد رہیں۔ مزید یہ کہ مانسون سے قبل سینٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن کے تحت تمام ضروری ٹیسٹ اور نمونے حاصل کیے جائیں۔ لہٰذا بروقت تیاری کو نہایت اہم قرار دیا گیا۔

مرکزی رہنما اصول اور تکنیکی جائزہ | Dam Repairs

وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ آبپاشی محکمہ، سی ڈبلیو پی آر ایس، تعمیراتی ایجنسیاں اور ڈیزائن کنسلٹنٹس پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے۔ مزید برآں سینٹرل واٹر کمیشن کے نمائندوں کو بھی ہر مرحلے میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی دوران انجینئروں نے بتایا کہ مسئلہ صرف میڈی گڈہ کے ایک ستون تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 1.6 کلومیٹر کے پورے حصے کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔ تاہم اس کے بعد میڈی گڈہ کے قریب 500 بور ویلز کھودنے اور ضروری مشینری فراہم کرنے کے لیے خصوصی منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔

ٹائم لائن، فنڈنگ اور عمل درآمد | Dam Repairs

وزیر اعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ مرمت کے ڈیزائن کو جلد حتمی شکل دی جائے اور دسمبر تک کام مکمل کرنے کے لیے واضح شیڈول تیار کیا جائے۔ مزید یہ کہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ لہٰذا بروقت تکمیل کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔

اسی دوران میڈی گڈہ میں ایک بیس کیمپ قائم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی اور کہا گیا کہ کام شروع ہونے کے بعد وہ خود موقع کا دورہ کریں گے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری کے رام کرشنا راؤ، آبپاشی سکریٹری سدھیر، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری مانک راج اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

اختتامیہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کالیشورم منصوبے کی مرمت ریاستی انفراسٹرکچر کے لیے انتہائی اہم ہے۔ لہٰذا اس کی بروقت تکمیل سے نہ صرف آبپاشی نظام بہتر ہوگا بلکہ زرعی شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔