Read in English  
       
Party Exit

حیدرآباد ۔ سابق وزیر ٹی جیون ریڈی نے کانگریس سے علیحدگی کے اپنے فیصلے کو 20 ماہ تک جاری رہنے والی بے عزتی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات جگتیال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جہاں کے ٹی راما راؤ اور دیگر بی آر ایس رہنما بھی موجود تھے۔ مزید برآں انہوں نے کے ٹی آر کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان کی رہائش گاہ آئے اور انہیں بی آر ایس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

تفصیلات کے مطابق، جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ ان کے لیے جذباتی تھا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ اب وہ کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے فیصلے کو ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 ماہ کے دوران انہوں نے پارٹی کے اندر مسلسل بے عزتی کا سامنا کیا۔ مزید برآں انہوں نے صبر سے کام لیا اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ لہٰذا انہوں نے کہا کہ ان کا یہ قدم ذاتی تجربات اور عوامی رائے کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔

ناراضگی اور اندرونی اختلافات | Party Exit

جیون ریڈی کے مطابق پارٹی کے اندر جاری صورتحال نے انہیں مایوس کیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ رویہ مناسب نہیں تھا جس کے باعث انہیں سخت فیصلہ لینا پڑا۔ اسی دوران انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ طویل غور و فکر کے بعد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ مختلف حکومتوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ انتظامیہ ترقی کے بجائے تنزلی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

نئی سیاسی سمت اور مستقبل کا لائحہ عمل | Party Exit

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس میں شمولیت کے ذریعے وہ عوامی خدمت زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکیں گے۔ مزید یہ کہ تجربہ کار قیادت کے ساتھ کام کرنے سے ان کے سیاسی سفر کو نئی سمت ملے گی۔ لہٰذا انہوں نے اس فیصلے کو مستقبل کے لیے اہم قرار دیا۔

اختتامیہ کے طور پر جیون ریڈی نے کہا کہ ان کا فیصلہ جذباتی ضرور تھا لیکن مکمل غور و فکر کے بعد کیا گیا ہے۔ اسی دوران انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نئی سیاسی ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ نبھائیں گے۔