Read in English  
       
Cyber Fraud

حیدرآباد ۔ حیدرآباد میں سائبر فراڈ کا ایک سنگین واقعہ سامنے آیا ہے جہاں جنگاؤں کے رکن اسمبلی پلہ راجیشور ریڈی کو ایک لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ دھوکہ ایک ایسے شخص نے کیا جس نے خود کو محکمہ خزانہ کا اعلیٰ عہدیدار ظاہر کیا۔ مزید برآں، اس نے ایک فرضی سرکاری اسکیم کے ذریعے مالی فائدے کا لالچ دیا۔

پس منظر میں ملزم نے خود کو تلنگانہ محکمہ خزانہ کا ایڈیشنل سکریٹری اننتا رامی ریڈی بتایا۔ تاہم اس نے دعویٰ کیا کہ مرکز کی جانب سے ‘وکست بھارت’ اسکیم کے تحت ہر مستحق فرد کو 10 لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران اس نے رکن اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے حلقے سے 40 مستحق افراد کی فہرست فوری فراہم کریں۔

ملزم نے یہ تاثر دیا کہ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ اسی دن ختم ہو رہی ہے، جس سے معاملہ مزید فوری محسوس ہوا۔ لہٰذا جلدی کے دباؤ میں آ کر رکن اسمبلی نے اس پر یقین کر لیا اور مطلوبہ معلومات فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

فرضی اسکیم کے ذریعے دھوکہ دہی | Cyber Fraud

ملزم نے ہر درخواست کے لیے 2500 روپے پروسیسنگ فیس طلب کی اور مجموعی طور پر 40 درخواستوں کے لیے 1 لاکھ روپے مانگے۔ مزید برآں، اس نے یقین دلایا کہ اس اقدام سے مستحق افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ اسی بنیاد پر رکن اسمبلی نے فراہم کردہ نمبر پر رقم منتقل کر دی۔

تاہم رقم موصول ہونے کے بعد ملزم نے رابطہ منقطع کر دیا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد صورتحال مشکوک ہوئی اور حقیقت جاننے کی کوشش کی گئی، جس سے واضح ہوا کہ یہ ایک منظم دھوکہ دہی تھی۔

پولیس کارروائی اور تحقیقات | Cyber Fraud

واقعہ کے بعد رکن اسمبلی نے جوبلی ہلز پولیس سے رجوع کیا اور باضابطہ شکایت درج کرائی۔ مزید یہ کہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ملزم کو گرفتار کیا جا سکے۔ اسی دوران حکام نے عوام کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کے فون کالز سے ہوشیار رہیں۔

اختتامیہ کے طور پر یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد نئے طریقوں سے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ شہری کسی بھی مالی لین دین سے قبل معلومات کی مکمل تصدیق کریں تاکہ ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔