Read in English  
       
Delimitation Debate

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے لوک سبھا حلقہ بندی کے مسئلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکز سے قومی سطح پر اتفاق رائے قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک پیغام میں اس معاملے کی حساسیت کو اجاگر کیا۔ مزید برآں، انہوں نے واضح کیا کہ اس موضوع پر جلد بازی میں فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ریزرویشن اور حلقہ بندی دو الگ مسائل ہیں جنہیں ایک ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ خواتین کے ریزرویشن کو وسیع حمایت حاصل ہے، تاہم حلقہ بندی کے حوالے سے کئی خدشات موجود ہیں۔ لہٰذا، ان دونوں معاملات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

ریونت ریڈی کے مطابق ریاستی اسمبلی میں خواتین کے لیے نشستوں کی تقسیم کو آسانی سے قبول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اسے قومی سطح پر آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندی سے جوڑنا پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے محتاط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔

جنوبی ریاستوں کے تحفظات | Delimitation Debate

انہوں نے کہا کہ آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندی وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتی ہے، لیکن یہ جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کے لیے غیر منصفانہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، اس اقدام سے علاقائی توازن متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ نتیجتاً، یہ معاملہ قومی اتحاد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا تو طویل مدت میں ملک کمزور ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، قومی مفاد کو سیاسی مفادات پر فوقیت دینا ضروری ہے۔ اسی دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ریاستوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

متبادل ماڈل اور مشاورت کی ضرورت | Delimitation Debate

وزیر اعلیٰ نے مرکز کو مشورہ دیا کہ سادہ تناسبی ماڈل کے بجائے دیگر متبادل طریقوں پر غور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت ضروری ہے تاکہ ایک متوازن حل سامنے آ سکے۔ مزید یہ کہ اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ممکنہ ماڈل بھی پیش کر چکے ہیں جس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ آخرکار، انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ ایسا نظام اپنایا جائے جو تمام ریاستوں کے لیے منصفانہ ہو۔ اس طرح ایک مضبوط اور متحد ملک کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔