Read in English  
       
Hyderabad Burglary

حیدرآباد ۔ میلاردیوپلّی پولیس نے ایک اہم کارروائی کے دوران چوری کے ایک مقدمے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے ₹5.2 لاکھ مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کر لیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے تکنیکی شواہد اور مقامی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا۔

مزید برآں، یہ کیس اس شکایت کے بعد درج کیا گیا تھا جو سرنگی بوچیاہ نے اپریل 5 کی علی الصبح درج کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے رات 12 بجے سے 1 بجے کے درمیان ان کے گھر میں داخل ہو کر سونے کے زیورات، موبائل فون اور نقدی چرا لی۔

ابتدائی تحقیقات اور گرفتاری | Hyderabad Burglary

تاہم، پولیس نے مسلسل نگرانی اور شواہد کی مدد سے اپریل 10 کو ملزم شیخ شبیر کو گرفتار کر لیا، جو ضلع گنٹور کا ایک کار مکینک ہے۔ دوران تفتیش اس کے قبضے سے سونے کے زیورات اور متعدد موبائل فون، جن میں اوپو اور آئی فون شامل ہیں، برآمد کیے گئے۔

اسی دوران، پولیس نے انکشاف کیا کہ ملزم پہلے بھی گنٹور کے ناگارامپالم اور للاپیٹ تھانوں میں درج کئی چوری کے مقدمات میں ملوث رہ چکا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ وہ ایک عادی مجرم ہے جو مختلف علاقوں میں وارداتیں کرتا رہا ہے۔

واردات کا طریقہ کار اور پولیس حکمت عملی | Hyderabad Burglary

مزید یہ کہ تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزم رات کے وقت ایسے گھروں کو نشانہ بناتا تھا جن کے دروازے غیر محفوظ ہوتے تھے۔ بعد ازاں، وہ چوری شدہ سامان کم قیمت پر فروخت کر کے اپنی طرز زندگی برقرار رکھتا تھا۔

دریں اثنا، اس کیس کی نگرانی اے سی پی اے سدھاکر نے کی جبکہ ایس ایچ او ستیہ نارائنا اور ان کی ٹیم نے فیلڈ ان پٹس اور تکنیکی شواہد کی مدد سے کارروائی مکمل کی۔ آخرکار، پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔

لہٰذا، اس کارروائی کو شہر میں بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتوں کے خلاف ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پولیس نے شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔