Read in English  
       
Political Stand

حیدرآباد ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے کے ٹی آر کی پدیاترا کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس کا خیرمقدم کرے گی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس سے پارٹی کی سیاسی پوزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مزید برآں، انہوں نے عوامی حمایت کو کانگریس کے ساتھ مضبوط قرار دیا۔

کے ٹی آر نے حال ہی میں پدیاترا کا اعلان کیا تھا، جس پر مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ایسے پروگرام جمہوری سیاست کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن، انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوام کا اعتماد بدستور کانگریس کے ساتھ ہے۔ نتیجتاً، انہوں نے اپوزیشن کے اثر کو محدود قرار دیا۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کو کوئی سخت مقابلہ درپیش نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بی آر ایس کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا، کانگریس اپنی پوزیشن کو مستحکم سمجھتی ہے۔

پدیاترا اور سیاسی اثرات | Political Stand

مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ اگر بی آر ایس اپنا نام تبدیل کرے یا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرے تب بھی وہ کانگریس کی رفتار کو نہیں روک سکتی۔ مزید یہ کہ انہوں نے سابقہ بی آر ایس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 10 سالہ دور میں ریاست کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے سنگارینی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کارکنان مبینہ معاہدوں اور بدعنوانی کو نہیں بھولیں گے۔ اسی دوران انہوں نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا کلواکنٹلہ کویتا کی مالی معاونت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مالی حالات اور حکومتی دعوے | Political Stand

ریاست کی مالی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ماہ تقریباً ₹7,000 کروڑ کے قرضے ادا کر رہی ہے۔ تاہم، اس دباؤ کے باوجود فلاحی اسکیموں کو جاری رکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے حکومتی عزم کو مضبوط قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت قرض کے بوجھ کے باوجود اپنے تمام وعدے پورے کرے گی۔ آخرکار، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت عوامی مفاد کو اولین ترجیح دے رہی ہے، جس سے اس کی سیاسی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔