Read in English  
       
Political Response

حیدرآباد ۔ کانگریس کی راجیہ سبھا رکن رینوکا چودھری نے بی آر ایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راو (کے ٹی آر) کی پدیاترا کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سیاسی تنقید میں شدت پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے نے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ مزید برآں، اس بیان نے کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

کے ٹی آر نے 2027 میں پدیاترا کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر ردعمل دیتے ہوئے رینوکا چودھری نے کہا کہ یہ قدم ان کی صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی کئی یاترائیں بھی کانگریس پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں۔ نتیجتاً، یہ بیان سیاسی طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران انہوں نے بی آر ایس قیادت پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر کے خاندان نے گزشتہ 10 سال کے دوران اقتدار اور وسائل کا غلط استعمال کیا۔ لہٰذا، یہ بیان دونوں جماعتوں کے درمیان جاری سیاسی محاذ آرائی کو مزید تیز کر رہا ہے۔

پدیاترا پر سیاسی ردعمل | Political Response

رینوکا چودھری نے بھدراچلم مندر کی زمینوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمینیں ان 5 پنچایتوں میں شامل ہیں جو آندھرا پردیش میں ضم کی گئی تھیں۔ مزید برآں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان علاقوں کو دوبارہ تلنگانہ میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو مرکز کے ساتھ اٹھائیں اور خوش اسلوبی سے حل نکالیں۔ اس طرح انہوں نے بین ریاستی تعاون پر زور دیا۔

متنازع بیان اور وضاحت | Political Response

راجیہ سبھا میں اپنے “کماراوتی” بیان پر بھی انہوں نے وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک سابق بیان کا حوالہ دیا تھا جو وائی ایس جگن موہن ریڈی نے دیا تھا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ اصطلاح انہوں نے خود ایجاد نہیں کی۔

آخرکار، یہ سیاسی بیانات تلنگانہ کی سیاست میں جاری کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔