Read in English  
       
Minority Welfare

حیدرآباد ۔ بی آر ایس رہنما شیخ عبداللہ سہیل نے کانگریس حکومت پر اقلیتی تعلیمی فنڈز کے مؤثر استعمال میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کیے گئے دعوے عملی طور پر خرچ میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ مزید یہ کہ انہوں نے اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے وعدوں پر بھی سوال اٹھایا۔

پس منظر کے طور پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے 4000 کروڑ روپے کے اقلیتی بجٹ اور مکمل خرچ کو یقینی بنانے کے لیے سب پلان کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق یہ وعدے عملی سطح پر پورے نہیں ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے مختلف اسکیموں کے اعداد و شمار پیش کیے۔

انہوں نے کہا کہ 2025-26 کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیمی شعبے میں خرچ انتہائی کم رہا۔ مزید برآں مینٹیننس آف چارجز اسکیم کے تحت 120 کروڑ روپے جاری ہونے کے باوجود صرف 1.20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح ٹیوشن فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم میں 300 کروڑ میں سے صرف 68.88 کروڑ روپے استعمال ہوئے جبکہ پری میٹرک اسکالرشپ میں کوئی خرچ نہیں ہوا۔

تعلیمی اسکیموں میں کم خرچ | Minority Welfare

مزید یہ کہ اسٹڈی سرکل کوچنگ کے لیے 4 کروڑ روپے مختص کیے گئے مگر صرف 0.03 کروڑ خرچ ہوئے۔ اسی دوران ٹریننگ اور ایمپلائمنٹ پروگرام میں 30 کروڑ میں سے 5.02 کروڑ روپے استعمال کیے گئے۔ مزید برآں اردو اکیڈمی اور دیگر اداروں میں بھی 12 کروڑ کے مقابلے میں صرف 2.04 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ ایک شعبے میں کوئی خرچ نہیں ہوا۔

فلاحی منصوبوں میں بھی خلا | Minority Welfare

انہوں نے مزید کہا کہ شادی مبارک اسکیم میں 650 کروڑ میں سے 284.79 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اسی دوران راجیو یووا وکاسم اسکیم میں 840 کروڑ کی منظوری کے باوجود کوئی خرچ نہیں ہوا۔ مزید برآں ٹی ایس ایم ایف سی اسکیموں میں 150 کروڑ کے مقابلے میں صرف 0.83 کروڑ روپے استعمال کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار بجٹ اعلانات اور عملی نفاذ کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ اور نوجوانوں کے لیے مختص فنڈز استعمال نہیں ہو رہے جبکہ دیگر اخراجات جاری ہیں۔

سابقہ بی آر ایس حکومت کے ساتھ موازنہ | Minority Welfare

انہوں نے سابق بی آر ایس حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فنڈز کے استعمال کی شرح زیادہ تھی۔ مزید یہ کہ 2019-20 میں 94.50 فیصد اور 2022-23 میں 96.96 فیصد فنڈز استعمال ہوئے جبکہ موجودہ حکومت کے تحت یہ شرح کم ہو کر 53.48 فیصد اور 49.65 فیصد رہ گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد خرچ کی رفتار میں کمی آئی۔ تاہم 2023-24 میں کل 1755.29 کروڑ روپے میں سے 1155.75 کروڑ روپے سابق حکومت کے دور میں خرچ ہوئے جبکہ باقی 599.54 کروڑ بعد میں خرچ کیے گئے۔

اختتامیہ طور پر شیخ عبداللہ سہیل نے کانگریس حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طلبہ اسکالرشپس، فیس ری ایمبرسمنٹ اور تربیتی سہولیات میں تاخیر کا شکار ہیں۔ مزید برآں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری اقدامات کرے اور مختص فنڈز کو مؤثر طریقے سے استعمال یقینی بنائے تاکہ عوام کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔