Read in English  
       
Annual Examinations

حیدرآباد ۔ تلنگانہ بھر میں انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا آغاز بدھ کی صبح 9 بجے سخت سکیورٹی اور جامع انتظامات کے درمیان ہوا۔ امتحانی مراکز کے باہر پولیس اور محکمہ تعلیم کے اہلکار تعینات رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام نے ابتدا ہی سے امتحانی عمل کو منظم اور شفاف رکھنے پر زور دیا۔

ریاست کے تمام اضلاع میں پہلے دن اول سال کے طلبہ کے لیے سیکنڈ لینگویج کا پرچہ منعقد کیا گیا۔ تاہم، دوم سال کے امتحانات جمعرات سے شروع ہوں گے۔ حکام نے واضح کیا کہ تمام مراکز پر امتحانی پرچوں کی بروقت ترسیل اور نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

مزید برآں، طلبہ کی سہولت کے لیے تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے خصوصی بسیں چلائیں تاکہ دیہی اور شہری علاقوں سے آنے والے امیدوار بروقت امتحانی مراکز تک پہنچ سکیں۔ اسی دوران پولیس نے اطراف میں گشت بڑھایا اور داخلی راستوں پر نگرانی سخت رکھی۔ حکام کے مطابق نظم و ضبط کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

سکیورٹی اقدامات اور نگرانی | Annual Examinations

انٹر بورڈ نے ریاست بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے امتحانات کی نگرانی کی۔ مزید برآں، معائنہ کے لیے فلائنگ اسکواڈ ٹیمیں تشکیل دی گئیں جو مختلف مراکز کا اچانک دورہ کر رہی ہیں۔ حکام نے موبائل فون، اسمارٹ واچ اور دیگر الیکٹرانک آلات کو امتحانی ہال کے اندر لانے پر مکمل پابندی عائد کی۔

دوسری جانب طلبہ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ امتحان کے دوران پُرسکون رہیں اور ذہنی دباؤ سے بچیں۔ اس مقصد کے لیے خصوصی ہیلپ لائن نمبر بھی فعال رکھے گئے ہیں تاکہ شکایات کے ازالے اور رہنمائی کی فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔ حکام کے مطابق فوری ردعمل کے نظام سے شفافیت میں اضافہ ہوگا۔

امتحانی مراکز اور طلبہ کی تعداد | Annual Examinations

رواں سال مجموعی طور پر 9,97,075 طلبہ ان امتحانات میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان میں 4,89,126 اول سال کے جبکہ 5,07,949 دوم سال کے امیدوار شامل ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر انعقاد کے پیش نظر انتظامیہ نے خصوصی منصوبہ بندی کی۔

امتحانات کے انعقاد کے لیے ریاست بھر میں 863 نجی کالج، 404 سرکاری کالج، 221 امدادی کالج اور 7 دیگر تعلیمی اداروں کو امتحانی مراکز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ لہٰذا، حکام کا کہنا ہے کہ مربوط حکمت عملی کے ذریعے امتحانات کو شفاف، منظم اور پُرامن انداز میں مکمل کرایا جائے گا۔