Read in English  
       
Fee Regulation

حیدرآباد ۔ تلنگانہ جاگرتی کی صدر کے کویتا نے ریاست میں نجی اسکولوں کی فیس کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ اس معاملے پر خصوصی اسمبلی اجلاس طلب کر کے بل منظور کیا جائے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال والدین کے لیے شدید مالی بوجھ بن چکی ہے۔

بنجارہ ہلز میں جاگرتی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے کے کویتا نے الزام لگایا کہ نجی اسکولوں نے ایک ہی بار میں 30 سے 40 فیصد تک فیس میں اضافہ کر دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سالانہ فیس میں اضافہ 8 فیصد تک محدود کیا جائے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ تعلیمی سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی فیس بڑھا دی گئی جس سے والدین مشکلات کا شکار ہوئے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو فیس پہلے ₹1 لاکھ تھی وہ اب تقریباً ₹30,000 تک بڑھ چکی ہے۔ نتیجتاً خاندانوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اسی دوران انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے مختلف اسکولوں میں والدین نے اس اضافے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

فیس بوجھ اور حکومتی ناکامی پر تنقید | Fee Regulation

مزید وضاحت کرتے ہوئے کے کویتا نے کہا کہ بعض اسکول ماہانہ ادائیگی کے بجائے 60 فیصد تک فیس پیشگی طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وعدوں کے باوجود 3 سال میں کوئی ضابطہ متعارف نہیں کرایا گیا۔ لہٰذا والدین مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیس میں اضافہ اساتذہ کی تنخواہوں میں بہتری کا باعث نہیں بنا۔ ان کے مطابق کارپوریٹ اسکول نہ تو تنخواہوں میں اضافہ کرتے ہیں اور نہ ہی پی ایف جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح تعلیمی نظام میں عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔

مزید خدشات اور احتجاج کی وارننگ | Fee Regulation

مزید برآں کے کویتا نے نجی اسکولوں میں کھانے کے معیار پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے اداروں میں مرکزی کچن کے باعث آلودگی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے باقاعدہ جانچ ضروری ہے۔ اسی دوران انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ ادارے طلبہ کے سرٹیفکیٹس روک رہے ہیں جس سے طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کالج انتظامیہ فوری طور پر سرٹیفکیٹس جاری کرے اور حکومت بقایا جات کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ مزید یہ کہ انہوں نے الزام لگایا کہ بیرونی ریاستوں کے ادارے مقامی افراد کو روزگار نہیں دے رہے، لہٰذا ایسے اداروں کو اجازت نہ دی جائے۔

آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو جاگرتی تنظیم اسکولوں کے سامنے احتجاج کرے گی۔ ان کے مطابق نجی اسکولوں کی جانب سے والدین کے ساتھ ناروا سلوک اور ٹیکس سے بچنے جیسے معاملات پر بھی سخت کارروائی ضروری ہے۔