Read in English  
       
Project Operations

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں آبپاشی منصوبوں کی کارکردگی ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئی ہے جہاں سابق وزیر اور بی آر ایس کے نائب فلور لیڈر ہریش راؤ نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے آبپاشی وزیر اتم کمار ریڈی کو ایک کھلا خط لکھ کر بڑے لفٹ ایریگیشن منصوبوں میں موٹروں کے استعمال پر سوال اٹھائے ہیں۔ تاہم، ان الزامات نے حکومتی کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پس منظر کے طور پر ہریش راؤ نے کالیشورم اور دیوادولا منصوبوں میں بھاری موٹروں کو بار بار آن اور آف کرنے کے عمل پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق یہ طریقہ کار انجینئرنگ اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے اہم مشینری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس عمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موٹروں کے مسلسل آن اور آف ہونے سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو پمپس، امپیلرز اور موٹروں کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا یہ اقدامات جان بوجھ کر کیے جا رہے ہیں تاکہ سابق حکومت پر ذمہ داری ڈالی جا سکے، یا یہ انتظامی غفلت کا نتیجہ ہیں۔

تکنیکی خطرات اور سرمایہ کاری پر اثرات | Project Operations

مزید تفصیلات کے مطابق ہریش راؤ نے کہا کہ یہ موٹرز مسلسل چلنے کے لیے تیار کی گئی ہیں، نہ کہ بار بار بند کرنے کے لیے۔ لہٰذا اس طرح کی مداخلتیں تکنیکی خرابیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ مزید برآں انہوں نے ہزاروں کروڑ روپے کے عوامی سرمایہ سے بننے والے منصوبوں کے ساتھ اس رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

Project Operations

یہ پہلو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو بڑے منصوبے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ بلکہ، اس سے طویل مدتی نقصانات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

حکومتی پالیسی اور کسانوں پر اثرات | Project Operations

اسی دوران انہوں نے چندلاپور اور پیکیجز 6، 8، 10، 11 اور 12 کا خاص طور پر ذکر کیا جہاں ان کے مطابق آپریشن کا طریقہ کار قابل اعتراض ہے۔ مزید برآں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان غیر سائنسی طریقوں کو روکا جائے اور انجینئرنگ معیارات کی پابندی یقینی بنائی جائے۔

نتیجتاً انہوں نے زور دیا کہ پمپس کو ڈیزائن کے مطابق مسلسل چلایا جانا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے آبپاشی نظام کو سیاسی رنگ دینے کے خلاف بھی خبردار کیا اور کہا کہ یہ منصوبے تلنگانہ کے کسانوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔

اختتامیہ کے طور پر انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی حفاظت اور درست آپریشن نہ صرف تکنیکی ضرورت ہے بلکہ یہ عوامی مفاد سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔