Read in English  
       
Governance Review

حیدرآباد ۔ چیف سکریٹری کے راماکرشنا راؤ نے ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 2 اپریل سے گرام سبھا اور وارڈ سبھا کا انعقاد کریں۔ یہ ہدایات پرجا پالنا جائزہ اجلاس کے دوران جاری کی گئیں، جس میں عوامی شرکت اور شفاف طریقہ کار پر زور دیا گیا۔ مزید برآں، حکام کو سختی سے معیاری ضابطوں پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی۔

یہ ہدایات ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران جاری کی گئیں جس میں 99 دنوں کے پرجا پالنا پراگتی پرنالیکا پروگرام کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سکریٹری نے واضح کیا کہ تمام سبھاؤں کو مقررہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے مطابق منظم انداز میں منعقد کیا جانا چاہیے۔ تاہم، اس بات کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا کہ عمل مکمل طور پر شفاف ہو۔

عوامی شرکت اور شفاف عملدرآمد | Governance Review

حکام کو ہدایت دی گئی کہ عوامی نمائندوں کی فعال شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کو بڑی تعداد میں شرکت کے لیے متحرک کیا جائے۔ مزید یہ کہ چیف سکریٹری نے کہا کہ اس جائزہ عمل کا مقصد عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ مضبوط کرنا اور نچلی سطح پر خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، شہریوں کو حکومتی اسکیموں کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

انہوں نے ہدایت دی کہ ریاستی بجٹ میں اعلان کردہ نئی اسکیموں، جاری فلاحی پروگراموں اور اہم اقدامات کے بارے میں عوام کو واضح طور پر بتایا جائے۔ نتیجتاً، اس عمل سے عوامی اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔

منظم طریقہ کار اور فیڈبیک نظام | Governance Review

پلاننگ سکریٹری گورو اپل نے ضلع کلکٹروں کو گرام سبھاؤں کے دوران اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک منظم ایجنڈا ترتیب دیا گیا ہے تاکہ تمام اضلاع میں یکساں عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، میونسپل ایڈمنسٹریشن کی سکریٹری ٹی کے سری دیوی نے کہا کہ 100 فیصد ٹیکس وصولی حاصل کرنے والے عملے کو وارڈ سبھاؤں میں اعزاز دیا جائے گا۔

دوسری جانب، پرنسپل سکریٹری صحت کرسٹینا زونگتو نے بتایا کہ 6 اپریل سے ریاست بھر میں ہیلتھ ویک منایا جائے گا، جس میں خصوصی طبی پروگرام اور آگاہی مہمات شامل ہوں گی۔ اس اجلاس میں دیگر سینئر افسران بشمول پرنسپل سکریٹری سری دھر نے بھی شرکت کی۔

اختتاماً، حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مربوط حکمت عملی اور عوامی شرکت کے ذریعے حکومتی منصوبوں کی مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، اس اقدام کو ریاست میں بہتر طرز حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔