Read in English  
       
Probe Pressure

حیدرآباد: مرکزی وزیر بنڈی سنجئے نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا کہ فون ٹیپنگ کیس کی جانچ کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ریاستی حکومت کی جانب سے مکمل آزادی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کی تفتیش میں کوئی ٹھوس پیش رفت نظر نہیں آتی، حالانکہ بار بار دعوے کیے جا رہے ہیں۔

جوبلی ہلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام مسلسل اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، مگر نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ ان کے مطابق، تحقیقات کے نام پر وقت گزارا جا رہا ہے اور حقیقی سوالات جواب طلب ہیں۔

بنڈی سنجئے نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت کے بااثر حلقے ایس آئی ٹی افسران پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے افسران کو قابل اور مخلص قرار دیا، تاہم یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جا رہا ہے یا نہیں۔

جانچ کے دائرے پر سوال | Probe Pressure

وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے بنڈی سنجئے نے ایس آئی ٹی سے پوچھا کہ تفتیش کا دائرہ آخر کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جانچ میں ہریش راؤ اور کے ٹی راما راؤ کے خلاف الزامات کی بھی چھان بین ہو رہی ہے یا صرف یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کن لوگوں کے فون ٹیپ کیے گئے۔

انہوں نے اسمبلی انتخابات کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ فون ٹیپنگ کی سرگرمیاں سرسلہ سے چلنے والے ایک کنٹرول روم کے ذریعے انجام دی جاتی رہیں۔ ان کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس عمل میں ہزاروں کروڑ روپئے کے لین دین کا بھی الزام ہے۔

گرفتاریوں پر سوال | Probe Pressure

بنڈی سنجئے کے مطابق، رئیل اسٹیٹ ڈیولپرز، کاروباری شخصیات، سیاستدان، فلمی شخصیات اور جج حضرات بھی اس مبینہ فون ٹیپنگ سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات کا رخ کے سی آر خاندان کی جانب ہے، اس کے باوجود کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

انہوں نے تفتیش کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ سابق ایس آئی بی چیف پربھاکر راؤ، جنہیں وہ مرکزی ملزم قرار دیتے ہیں، اب تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایس آئی ٹی واضح کرے کہ اب تک اس نے کیا حاصل کیا ہے۔

آخر میں بنڈی سنجئے نے کانگریس حکومت پر الزام لگایا کہ وہ فون ٹیپنگ کیس کو بدعنوانی کے الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، اگر کارروائی منتخب انداز میں کی گئی تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔