Read in English  
       
Betting Racket

حیدرآباد ۔ شہر کے گوشہ محل علاقے میں پولیس نے آن لائن بیٹنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے 3 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع ملنے کے بعد 3 اپریل کو انجام دی گئی۔ تاہم اس معاملے نے شہر میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل جرائم کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھا دی ہے۔

پس منظر کے طور پر پولیس نے بتایا کہ ملزمان مختلف ویب سائٹس کے ذریعے غیر قانونی بیٹنگ میں ملوث تھے۔ مزید برآں کرک کوڈ، اسٹیک اور فیوچر پلے جیسے پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ لہٰذا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور مزید تحقیقات کا آغاز کیا۔

گرفتار افراد میں انوراگ راموت (22) جو ایک طالب علم ہے اور اصل میں راجستھان کے بیکانیر سے تعلق رکھتا ہے، شامل ہے۔ اس کے علاوہ دھول کھتری (22) جو ایک کاروباری شخصیت ہے اور گوولی گوڑہ کا رہائشی ہے، جبکہ کرشنا (21) جو پرانا پول کا طالب علم ہے، بھی اس کیس میں ملوث پایا گیا۔

غیر قانونی سرگرمیوں کا انکشاف | Betting Racket

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 3 موبائل فون ضبط کیے گئے، جن میں آئی فون 17، آئی فون 15 پرو اور اوپو رینو 2 ایف شامل ہیں۔ مزید یہ کہ تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ ڈیوائسز بیٹنگ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے تھے۔

حکام نے کہا کہ ملزمان آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر قانونی بیٹنگ کو فروغ دے رہے تھے۔ لہٰذا شہر میں اس طرح کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

شہریوں کے لیے انتباہ اور تحقیقات | Betting Racket

اسی دوران پولیس نے خبردار کیا کہ ایسے جرائم میں ملوث کھلاڑیوں، منتظمین اور پروموٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں سائبر نگرانی کو جاری رکھا جائے گا تاکہ دیگر خلاف ورزیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

پولیس نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں قانونی نتائج سے آگاہ کریں۔ تاہم عوام سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی بیٹنگ کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔

اس کارروائی کی نگرانی اعلیٰ افسران نے کی، جن میں چندراموہن اور ایس سدرشن شامل ہیں۔ مزید برآں گوشہ محل پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے بھی اس آپریشن میں اہم کردار ادا کیا۔

آخر میں پولیس نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس کیس کے مزید روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ لہٰذا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔