Read in English  
       
Municipal Campaign

حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راماراؤ نے پیر کے روز بھوپال پلی میں انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں بی آر ایس کی حمایت کریں اور کانگریس کو مسترد کر دیں۔

عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی راماراؤ نے کہا کہ موجودہ قیادت نے سیاسی گفتگو کے معیار کو گرا دیا ہے۔ ان کے مطابق مختلف طبقات کو گمراہ کیا جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے درست فیصلہ کیا جائے۔

حکمرانی میں ناکامی کے الزامات | Municipal Campaign

کے ٹی راماراؤ نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی محض قسمت کے سہارے وزیر اعلیٰ بنے اور انتظامی ذمہ داریوں پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں وہ چندر بابو نائیڈو کے دور میں ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت میں بروکر کے طور پر سرگرم رہے۔

اسی تناظر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران ریونت ریڈی کہاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی تاریخ کے اہم مرحلے میں ان کی غیر موجودگی عوام کے سامنے عیاں ہے۔

کانگریس پر بدعنوانی اور وعدہ خلافی کا الزام | Municipal Campaign

کے ٹی راماراؤ نے سنگارینی کوئلہ کانوں سے متعلق 6,000 کروڑ روپئے کے مبینہ گھوٹالے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے سرکاری ادارے کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں منافع بخش ادارہ خسارے کی طرف چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے اس سلسلے میں مرکز کو شواہد بھی دیے، لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

انہوں نے بعض پولیس افسران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کانگریس کے ایجنٹ بن کر کام کریں گے تو یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ، انہوں نے کانگریس کے مقامی نمائندوں پر الزام لگایا کہ دو برس میں بھوپال پلی کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، جبکہ انتخاب کے وقت جذباتی اپیلیں کی گئی تھیں۔

کے ٹی راماراؤ نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے اقتدار کے لیے بڑے رہنماؤں کے نام استعمال کیے، مگر بعد میں انہیں بھی نظر انداز کر دیا۔ ان کے مطابق عوام اب حقیقت سمجھ چکے ہیں اور بلدیاتی انتخابات میں اس کا واضح جواب دیں گے۔