Read in English  
       
Kunja Ramu

حیدرآباد ۔ وزیر داناسری سیتکّا نے اپنے شوہر کنجا رامو کی 22 ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نظریات آج بھی ان کی عوامی زندگی کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی جدوجہد وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

یہ یادگاری تقریب کوتہ گوڈیم منڈل کے موکالاپلی گاؤں میں منعقد ہوئی جہاں سیتکّا نے اپنے بیٹے سوریا اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ یادگار پر پھول چڑھائے۔ مزید برآں انہوں نے کنجا رامو کو نہ صرف اپنے شوہر بلکہ تحریک کے ساتھی کے طور پر بھی یاد کیا۔

جدوجہد اور نظریات | Kunja Ramu

سیتکّا نے کہا کہ کنجا رامو ان کی زندگی میں ایک مضبوط رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے آدیواسی حقوق کے لیے ان کی قربانیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم طبقات کے ساتھ کھڑے رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کنجا رامو نے اپنی پوری زندگی قبائلی برادری کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف کر دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے “جل، جنگل، زمین” کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔

وراثت اور اثرات | Kunja Ramu

سیتکّا کے مطابق کنجا رامو کے نظریہ “ماوا ناٹے ماوا راج” نے ان کی اپنی سیاسی اور سماجی زندگی کو بھی متاثر کیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی عوام کے درمیان اسی عزم کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے رہنما جسمانی طور پر موجود نہ ہوں تو بھی ان کے نظریات زندہ رہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنتے ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے اسنالا سرینواس کی لکھی ہوئی کتاب “آدوی دویتیلو – سیتکّا کنجا رامنا” کی رسم اجرا بھی انجام دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ کتاب کنجا رامو کی جدوجہد کو نئی نسل تک پہنچائے گی۔

تقریب میں آدیواسی رہنماؤں، کانگریس نمائندوں اور پارٹی کارکنوں نے شرکت کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔