Read in English  
       
Contract Scam

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے ہفتے کے روز وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر ایک مرتبہ پھر سخت حملہ کیا اور سرکاری ٹھیکوں سے جڑے ایک بڑے اسکینڈل کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے ایک ایسی کمپنی کو ہزاروں کروڑ کے ٹھیکے دیے جو مالی بحران کا شکار ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کے ٹی راما راؤ نے الزام لگایا کہ کے ایل ایس آر انفرا ٹیک نامی کمپنی کو بھاری سرکاری منصوبے سونپے گئے، حالانکہ کمپنی کے خلاف دیوالیہ پن کی کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ایسے فیصلے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں اور بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک صنعت کار کی 75 سالہ والدہ کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ریاستی مشینری کے غلط استعمال کا تاثر ملتا ہے، جس کا مقصد سوال اٹھانے والوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔

اقتدار کے غلط استعمال کا الزام | Contract Scam

کے ٹی راما راؤ نے مزید کہا کہ کے ایل ایس آر انفرا دراصل وزیر اعلیٰ کی مبینہ بے نامی کمپنی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں ریونت ریڈی کے زیر استعمال لگژری گاڑیاں اسی کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ تھیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسی فرم، جو ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے میں ناکام رہی اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہے، اسے 6,000 کروڑ روپے کے سرکاری کام کیسے دیے گئے۔

مزید برآں انہوں نے عدالتی عمل کو متاثر کرنے کی کوششوں کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات اداروں پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات نہایت تشویشناک ہیں اور شفاف حکمرانی پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

سیاسی ردعمل اور عدالتی پیش رفت | Contract Scam

اسی دوران کے ٹی راما راؤ نے کانگریس قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور راہل گاندھی سے سوال کیا کہ بزرگ شہریوں کو ہراساں کرنا کیا پارٹی کے دعووں سے مطابقت رکھتا ہے۔ دوسری جانب معاملے سے متعلق درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، جہاں درخواست گزار نے مرکزی تفتیشی ادارے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے جانچ کی اپیل کی ہے۔

نتیجتاً یہ تنازع ریاستی سیاست میں نئی بحث کا باعث بن گیا ہے اور اعلیٰ عدالتی حلقوں سے جڑے افراد کے تذکروں نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

سرکاری ٹھیکوں سے متعلق الزامات نے ریاست میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ اب سب کی نظریں عدالتی فیصلے اور ممکنہ تحقیقات پر مرکوز ہیں، جو اس معاملے کی اصل حقیقت کو سامنے لا سکتی ہیں۔