Read in English  
       
Agri Development

حیدرآباد ۔ ریاست کے وزیر زراعت تُملّا ناگیشورا راؤ نے کوہیڈہ فروٹ مارکیٹ کی اراضی سے متعلق سابق وزیر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسانوں کے مفادات کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ مجوزہ فروٹ مارکیٹ کی زمین فروخت کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پس منظر کے طور پر وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی پالیسی کا مقصد کسانوں کے مفادات کے خلاف نہیں ہوگا۔ اسی دوران انہوں نے اپوزیشن کے بیانات کو سیاسی نوعیت کا قرار دیا۔

وزیر نے مزید کہا کہ حکومت بین الاقوامی معیار کی جدید سہولیات کے ساتھ فروٹ مارکیٹ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لہٰذا اس منصوبے کو جامع انداز میں تیار کیا جا رہا ہے تاکہ کسانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

منصوبے کی تفصیلات اور لاگت | Agri Development

مزید یہ کہ حکام نے ₹3087 کروڑ کی لاگت سے ایک تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کی ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق حکومت نے اس منصوبے کو صرف ₹399.96 کروڑ تک محدود رکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 میں 178.09 ایکڑ زمین اس مقصد کے لیے مختص کی گئی تھی، تاہم گزشتہ دہائی میں اس پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔

اسی دوران موجودہ حکومت نے منصوبے کو وسعت دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مزید برآں 23 فروری 2026 کو کابینہ نے اضافی 239 ایکڑ زمین مارکیٹنگ محکمہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے منصوبہ مزید مضبوط ہوگا۔

کسانوں کے لیے مواقع اور عالمی رسائی | Agri Development

وزیر نے کہا کہ منصوبے کے تحت زرعی برآمدات اور فوڈ پروسیسنگ یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ لہٰذا اس سے کسانوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ مزید یہ کہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زمین نجی اداروں کو دینے کے دعوے بے بنیاد ہیں اور صرف سیاسی فائدے کے لیے پھیلائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسانوں کی فلاح کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تاہم انہوں نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسانوں کو نظر انداز کیا۔

اختتامیہ طور پر وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت باغبانی پیداوار کے لیے بہتر قیمتیں یقینی بنائی جائیں گی۔ مزید برآں دو مختلف مارکیٹ نظام قائم کیے جائیں گے، جن میں ایک تھوک تجارت کے لیے جبکہ دوسرا قومی اور بین الاقوامی برآمدات کے لیے مختص ہوگا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ کسانوں کو منافع بخش قیمتیں دینا، پھلوں کی کاشت کو فروغ دینا اور عالمی منڈیوں سے جوڑنا حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں۔