Read in English  
       
GST Scam

حیدرآباد: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلی جنس کے حیدرآباد زون نے آن لائن گیمنگ اور بیٹنگ ایپس سے جڑے تقریباً 5,000 کروڑ روپئے کے بڑے ٹیکس گھوٹالے کا پردہ فاش کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ایپس خود کو ٹیکنالوجی سروس پلیٹ فارم ظاہر کر کے جی ایس ٹی سے بچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اطلاع ملنے کے بعد حکام نے حیدرآباد، ممبئی اور دہلی میں بیک وقت چھاپے مارے۔ اس کارروائی کے دوران ایک بین الریاستی نیٹ ورک کا انکشاف ہوا، جو شیل کمپنیوں، غیر ملکی سرورز اور جعلی رسیدوں کے ذریعے 28 فیصد جی ایس ٹی سے بچ رہا تھا۔

شیل کمپنیاں اور جعلی رسیدیں | GST Scam

تحقیقات میں ممبئی کے وائی ایس پربھو کمار اور حیدرآباد کے راج شیکھر ریڈی کو اہم ملزم کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ دونوں نے حقیقی رقم پر مبنی گیمنگ اور بیٹنگ ایپس چلائیں، تاہم انہیں ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے طور پر ظاہر کیا گیا۔

حکام کے مطابق اس نیٹ ورک نے ہزاروں کروڑ روپئے جعلی اداروں کے ذریعے منتقل کیے۔ ان میں سے کئی ادارے یا تو جی ایس ٹی میں رجسٹرڈ نہیں تھے یا پھر صرف رسمی ریٹرن داخل کر رہے تھے۔ مزید یہ کہ، لین دین کو چھپانے کے لیے غیر ملکی سرورز کا سہارا لیا گیا۔

سخت قوانین اور بڑھتی گرفت | GST Scam

چھاپوں کے دوران ہارڈ ڈرائیوز اور مالی دستاویزات ضبط کی گئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممکنہ حوالہ نیٹ ورک سے تعلقات کی بھی جانچ ہو رہی ہے، تاکہ رقم کے مکمل بہاؤ کا سراغ لگایا جا سکے۔

یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت نے آن لائن گیمنگ کے لیے جی ایس ٹی قواعد مزید سخت کیے ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت حقیقی رقم والے تمام کھیلوں پر جمع شدہ رقم پر 28 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف 1,000 روپئے جمع کرتا ہے تو پلیٹ فارم پر 280 روپئے ٹیکس واجب ہوتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جلد گرفتاریوں کا امکان ہے اور جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھے گی، مزید نام سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ کارروائی آن لائن گیمنگ کے شعبے میں شفافیت قائم کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔