Read in English  
       
FSL Fire

حیدرآباد: شہر کے وسطی علاقے نامپلی میں واقع فارنسک سائنس لیبارٹری کے دفتر میں ہفتے کے روز اچانک شدید آگ بھڑک اٹھی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدا میں آگ کمپیوٹر لیب کے حصے میں لگی، تاہم بعد میں شعلے تیزی سے دیگر شعبوں تک پھیل گئے۔

اسی دوران عمارت میں کثیف دھواں بھر گیا کیونکہ دفتر میں کیمیائی مواد اور نہایت اہم فارنسک ریکارڈ محفوظ تھا۔ چنانچہ الرٹ عملے نے فوری طور پر عمارت خالی کی اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی، جس کے بعد حالات مزید سنگین ہونے سے بچ گئے۔

اہم ریکارڈ کو نقصان کا خدشہ | FSL Fire

فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سرچ آپریشن بھی کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شخص اندر پھنس تو نہیں گیا۔ دریں اثنا، سینئر پولیس افسران نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں مسلسل جاری رہیں۔

بعد ازاں خیرت آباد زون کی ڈپٹی کمشنر پولیس شلپاولی بھی موقع پر پہنچیں اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ تاہم حکام نے بتایا کہ نقصان کی مکمل تفصیلات کا اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں۔

ابتدائی جانچ اور تفتیش | FSL Fire

حکام کے مطابق فارنسک سائنس لیبارٹری میں مجرمانہ تحقیقات سے متعلق اہم شواہد، کیمیائی نمونے اور حساس ریکارڈ موجود ہوتا ہے، اس لیے نقصان کا خدشہ سنگین ہے۔ ابتدائی جانچ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، تاہم حتمی وجہ جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔

اسی دوران پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور عمارت کو محفوظ بنانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ آگ دوبارہ نہ پھیل سکے۔ نتیجتاً حکام مکمل رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

واقعے نے نہ صرف حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں بلکہ حساس شواہد کے تحفظ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ حکام کے مطابق تفصیلی جانچ کے بعد ہی اصل نقصان اور ذمہ داری کا تعین ہو سکے گا۔