Read in English  
       
Education

حیدرآباد: ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے پیر کے روز کہا کہ Educationہی سماجی ترقی اور عالمی مسابقت کی واحد راہ ہے۔ انہوں نے یہ بات جوبلی ہلز میں ایک تقریب کے دوران تعلیمی موضوع پر شائع ہونے والی ایک کافی ٹیبل بُک کے اجراء کے موقع پر کہی۔

بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ سماج کا ارتقاء صرف تعلیم کے ذریعے ممکن ہے اور کوئی بھی ریاست یا ملک تعلیم کو اولین ترجیح دیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم دنیا سے مسابقت چاہتے ہیں تو یہ صرف تعلیم ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

ہندوستان کی تعلیمی میراث کا حوالہ

انہوں نے ہندوستان کی تعلیمی میراث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جواہر لال نہرو کے دور میں قائم ادارے جیسے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور ریجنل انجینئرنگ کالجز نے کئی تلگو طلبہ کو عالمی سطح پر سی ای او بننے کا موقع فراہم کیا۔ ان کے مطابق خانگی یونیورسٹیوں نے بھی اعلیٰ تکنیکی تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Education

نصاب کو وقف اور سماجی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ناگزیر

ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ نصاب کو وقت اور سماجی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں ریاستی کابینہ نے ایک اسکل یونیورسٹی قائم کی ہے جو صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تعلیم فراہم کرے گی۔ مزید برآں تقریباً 100 سرکاری آئی ٹی آئیز کو صنعت کاروں سے مشاورت کے بعد جدید نصاب کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غریب طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے ہر اسمبلی حلقہ میں 25 ایکڑ اراضی پر 200 کروڑ روپئے کی لاگت سے ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریذیڈنشیل اسکول تعمیر کیے جارہے ہیں۔ ان اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے قیام کی سہولت ہوگی اور ایک ساتھ 104 اسکول قائم کیے جارہے ہیں۔

بھٹی وکرمارکا نے مزید اعلان کیا کہ کوٹھی ویمنس کالج کا نام آزادی کی مجاہدہ چکلی ایلماں کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس کی ترقی کے لیے 500 کروڑ روپئے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں عثمانیہ یونیورسٹی میں اساتذہ کی بھرتی شروع کی گئی ہے، خاص طور پر پسماندہ طبقات پر توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہائی کی غفلت کے بعد ریاست نے اب تعلیم اور صحت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت موجودہ وقت ہی نہیں بلکہ آئندہ 50 تا 100 برس کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے خانگی تعلیمی اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ تعلیمی ترقی میں تعاون کریں اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے مسائل کا حل کرے گی۔