Read in English  
       
Davos Deals

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں داؤس سرمایہ کاری معاہدوں کے تحت 2024 اور 2025 کے دوران مجموعی طور پر 2.19 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔ یہ انکشاف وزیر سری دھر بابو نے جمعرات کو اسمبلی میں کیا۔ اس اعلان نے ریاست میں صنعتی ترقی کے امکانات کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

پس منظر کے مطابق وزیر نے بی جے پی ارکان کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران مختلف کمپنیوں کے ساتھ 44 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے مختلف مراحل میں عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ نتیجتاً، ریاست میں سرمایہ کاری کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں سے 68,150 بے روزگار نوجوانوں کو براہ راست روزگار ملنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کو امید ہے کہ یہ سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے گی۔ لہٰذا، یہ معاہدے ریاستی معیشت کے لیے اہم ستون بن رہے ہیں۔

سالانہ سرمایہ کاری کی تفصیل| Davos Deals

وزیر کے مطابق 2024 میں کیے گئے 18 معاہدوں کے ذریعے 40,232 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئی۔ مزید یہ کہ 2025 میں 26 معاہدوں سے 1,78,950 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہوئی۔ اس طرح مجموعی طور پر 44 معاہدوں کے ذریعے 2,19,182 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 6 کمپنیوں کو زمین الاٹ کی جا چکی ہے، جن کی سرمایہ کاری کا حجم 81,800 کروڑ روپے ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو 1,540 کروڑ روپے کی آمدنی بھی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، منصوبوں پر عمل درآمد مرحلہ وار جاری ہے۔

انفراسٹرکچر اور روزگار پر اثرات| Davos Deals

وزیر نے آئی ٹی سیکٹر میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ نظام آباد میں قائم آئی ٹی ٹاور کی مجموعی گنجائش 681 نشستوں پر مشتمل ہے۔ مزید برآں، اس وقت 11 کمپنیاں وہاں کام کر رہی ہیں، جن میں 276 افراد ملازمت کر رہے ہیں۔ نتیجتاً، یہ انفراسٹرکچر مستقبل کی توسیع کے لیے بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ مفاہمتی یادداشتوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔ لہٰذا، حکام مسلسل پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ داؤس معاہدے تلنگانہ کی سرمایہ کاری حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں اور ریاست کی معیشت کو نئی سمت دے رہے ہیں۔