Read in English  
       
Child Protection

حیدرآباد ۔ شہر کی ایک خصوصی عدالت نے 2020 میں درج بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے مقدمے میں 22 سالہ ملزم کو 5 سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ملزم پر ₹20000 جرمانہ بھی عائد کیا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے سخت نفاذ کی عکاسی کرتا ہے۔

پس منظر کے طور پر یہ مقدمہ ابتدا میں چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے بندلہ گوڑہ منتقل کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ خصوصی سیشن عدالت، جو ہاکا بھون میں قائم ہے، نے تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔ مقدمے کی سماعت جج جی ادے بھاسکر راؤ کی سربراہی میں ہوئی۔

عدالت نے ملزم، جو پیشے کے اعتبار سے مستری ہے، کو تعزیرات ہند کی دفعات 354 اور 506 کے تحت قصوروار قرار دیا۔ اس کے علاوہ پی او سی ایس او قانون کی دفعات 11 اور 12 کے تحت بھی جرم ثابت ہوا۔ لہٰذا عدالت نے سخت سزا سناتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے جرائم کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

واقعے کی تفصیل اور عدالتی کارروائی | Child Protection

مزید تفصیلات کے مطابق واقعہ 29 جنوری 2020 کو گھاؤس نگر کے قریب پیش آیا۔ ملزم نے 5 سے 9 سال عمر کی 5 کمسن بچیوں کو جادو دکھانے کا جھانسہ دے کر ایک جھونپڑی میں لے گیا۔ تاہم وہاں اس نے فحش ویڈیوز دکھائیں اور انہیں ڈرا دھمکا کر یرغمال رکھا، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گیا۔

اسی دوران حکام نے متاثرہ بچیوں کے بیانات بھروسہ مرکز میں ریکارڈ کیے جہاں بچوں کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کیا گیا۔ مزید برآں تحقیقات کے دوران تمام قانونی تقاضوں کو مکمل کیا گیا تاکہ کیس مضبوط بنیادوں پر عدالت میں پیش کیا جا سکے۔

متاثرین کی معاونت اور نظام کی اہمیت | Child Protection

مزید یہ کہ بھروسہ ٹیم نے متاثرہ بچیوں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل نفسیاتی اور جذباتی مدد فراہم کی۔ اس کے علاوہ کیس کے دوران ہر مرحلے پر ان کی رہنمائی کی گئی تاکہ وہ عدالتی عمل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ لہٰذا یہ اقدام متاثرین کے اعتماد کی بحالی میں اہم ثابت ہوا۔

اختتامیہ کے طور پر عدالت کے اس فیصلے سے متاثرہ خاندان کو کچھ حد تک سکون ملا ہے۔ تاہم حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے کیسز میں معاونتی نظام نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔