Read in English  
       
Family Suicide

حیدرآباد: چرلہ پلّی میں پیش آنے والے سنسنی خیز خاندانی واقعے کی جانچ مکمل ہونے کے بعد پولیس نے کہا ہے کہ شدید ذہنی دباؤ اور افسردگی اس سانحے کی بنیادی وجہ بنی۔ نو دن کی تفصیلی تفتیش کے بعد حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ آئی ٹی شعبے سے وابستہ خاتون نے اسی ذہنی کیفیت کے باعث اپنے دونوں بچوں سمیت جان دے دی۔

پولیس کے مطابق وجئے شانتی ریڈی اپنے انٹرمیڈیٹ میں زیر تعلیم بچوں چیتنا ریڈی اور وشال ریڈی پر مکمل کنٹرول رکھتی تھیں۔ تاہم وہ اس بات پر شدید بے چینی کا شکار تھیں کہ ان کے بعد بچوں کا مستقبل کیا ہوگا، چنانچہ اسی سوچ کے زیر اثر انہوں نے بچوں کو اپنے ساتھ مرنے پر آمادہ کیا۔

وجئے شانتی اپل کی رہائشی تھیں اور ان کے شوہر سریندر ریڈی دبئی میں ملازمت کرتے ہیں۔ 30 جنوری کی رات وہ بچوں کو ہاسٹل سے کار میں لے کر چرلہ پلّی ریلوے اسٹیشن پہنچیں، جہاں انہوں نے پارکنگ سلپ پر خودکشی کا نوٹ تحریر کیا۔

پولیس جانچ اور شواہد | Family Suicide

سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ماں اور دونوں بچے بعد میں مال گاڑی کے سامنے آ گئے، جس سے تینوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ پولیس کے مطابق ویڈیو شواہد نے واقعات کی ترتیب سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے شوہر، والدہ، بھائی اور ساتھی ملازمین کے بیانات ریکارڈ کیے۔ اس کے علاوہ لیپ ٹاپ، واٹس ایپ چیٹس اور کال ریکارڈز کی بھی جانچ کی گئی، تاہم کسی مالی بحران یا گھریلو تنازع کے شواہد نہیں ملے۔

ذہنی دباؤ اصل وجہ | Family Suicide

حکام کا کہنا ہے کہ وجئے شانتی ریڈی شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا تھیں اور یہی کیفیت اس سانحے کا مرکزی سبب بنی۔ تاہم پولیس اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسا کون سا محرک تھا جس نے انہیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔

نتیجتاً پولیس نے بتایا کہ باقی ماندہ جانچ مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

چرلہ پلّی کا یہ واقعہ ذہنی صحت کے مسائل کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بروقت مشاورت اور سماجی تعاون ایسے المناک واقعات کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔