Read in English  
       
BC Quota

حیدرآباد: تلنگانہ میں BC Quota میں 42 فیصد اضافے کی کانگریس حکومت کی کوشش کو بی جے پی کی سخت مخالفت اور گورنر دفتر کی قانونی جانچ کا سامنا ہے۔

بی جے پی ریاستی صدر این رام چندر راؤ نے پیر کو اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی 50 فیصد کی حد کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ حکومت آئین کی نویں شیڈول میں قانون شامل کر کے اس حد سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، اور دعویٰ کیا کہ اس کیلئے پنچایتی راج ایکٹ کی دفعہ 285 میں ترمیم ضروری ہے۔

اس پر برہم ہوکر کانگریس کے وزیر پونم پربھاکر نے رام چندر راؤ پر “اپنے اصلی رنگ دکھانے” کا الزام لگایا اور تمل ناڈو کی مثال پیش کی جہاں کوٹہ 50 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بی جے پی کے ارکان پارلیمان واقعی بی سی تحفظات کے خلاف نہیں ہیں تو وہ مستعفی ہوں۔

مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ کانگریس کو چاہیے کہ وہ کاماریڈی ڈیکلیریشن پر عمل کرے، جس کا وعدہ اس نے عوام سے کیا تھا۔ انہوں نے نویں شیڈول کا حوالہ دے کر مرکز کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوششوں پر اعتراض ظاہر کیا اور مسلمانوں کو بی سی فہرست میں شامل کرنے پر بھی سوال اٹھایا۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 24 جولائی کو دہلی میں کانگریس ارکان پارلیمان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ انہیں ذات پر مبنی مردم شماری اور اسمبلی قرارداد پر تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے صدر اے آئی سی سی ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی سے نویں شیڈول میں ترمیم کیلئے تعاون مانگا جا سکے۔

دریں اثنا، گورنر جِشنو دیو ورما نے 2018 کے پنچایتی راج ایکٹ کی دفعہ 285(A) میں ترمیم سے متعلق آرڈیننس پر قانونی مشورہ طلب کیا ہے۔ یاد رہے کہ اصل قانون میں تحفظات کی حد 50 فیصد مقرر تھی۔ آرڈیننس کو حالیہ مردم شماری کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد راج بھون کو بھیجا گیا، جہاں سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

کانگریس نے اس مسئلہ پر تین سطحی حکمت عملی اپنائی ہے: ذات پر مبنی مردم شماری، اسمبلی میں قرارداد کی منظوری، اور آرڈیننس کی اجرائی۔ اسمبلی اور کونسل کو سسپینڈ کر کے کابینہ میٹنگ کے ذریعے آرڈیننس منظور کیا گیا، کیونکہ ہائی کورٹ نے مقامی بلدی انتخابات 30 ستمبر تک مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

تحفظات کی حتمی منظوری، گرام پنچایت، منڈل پریشد، ضلع پریشد، بلدیہ اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے قبل ضروری ہے۔ کانگریس حکومت کا یہ اقدام نہ صرف ہزاروں عہدوں کی انتخابی ساخت پر اثر انداز ہوگا بلکہ ریاست کی سیاسی سمت کا تعین بھی کرے گا۔